’میں موت کے دہانے پر ہوں‘

Image caption ٹائیسن 20 سال کی عمر میں ڈبليو بي سي، ڈبليو بي اے اور آئی بی ایف کا خطاب جتنے والے سب سے کم عمر باکسر بنے تھے

ایک زمانہ میں دنیا کے کامیاب ترین باکسر اور سابق عالمی چیمپیئن مائیک ٹائیسن کا کہنا ہے کہ منشیات اور شراب کی عادت نے انہیں موت کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔

47 سالہ ٹائیسن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ مسلسل ان چیزوں کے ناجائز استعمال میں ملوث رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ بالآخر اس سب کو چھوڑنے میں کامیاب ہو ہو جائيں گے۔

سپورٹس چینل ای ایس پی این کے پروگرام ’فرائیڈے نائٹ فاٹس‘ کے دوران ٹائیسن نے کہا ’میں ایک سادہ اور سنجیدہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ میں مرنا نہیں چاہتا۔ ایک برے شرابی ہونے کی وجہ سے میں موت کے دہانے پر ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’میں کبھی کبھی خراب انسان بن جاتا ہوں۔ میں نے بہت سارے خراب کام کیے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ مجھے معاف کر دیا جائے۔‘

سنہ 1987 میں امریکی باکسر مائیک ٹائیسن 20 سال کی عمر میں ڈبليو بي سي، ڈبليو بي اے اور آئی بی ایف کے ہیوی ویٹ باکسنگ کا خطاب جتنے والے سب سے کم عمر باکسر بنے تھے۔

لیکن پانچ سال بعد ٹائیسن کو ڈیزائیری واشنگٹن کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملے مجرم قرار دیے جانے کے بعد چھ سال قید کی سزا ہوئی تھی۔

قید کی میعاد پوری کرنے کے بعد اگرچہ وہ رنگ میں واپس آئے، لیکن 2006 میں انہوں نے اس کھیل سے ریٹائرمنٹ لے لیا۔ سنہ 2007 میں انہیں منشیات رکھنے اور نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے لیے 24 گھنٹے کی قید کے علاوہ 360 گھنٹے کمیونٹی سروس کی سزا بھی دی گئی تھی۔

ٹائیسن جو کہ اب باکسنگ پروموٹر کے طور پر کام کرتے ہیں کہتے ہیں ’میں امید کرتا ہوں کہ اب لوگ مجھے معاف کر دیں گے۔ میں زندگی میں تبدیلی لانا چاہتا ہوں. میں اب ایک بدلی ہوئی زندگی جینا چاہتا ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’میں نے گزشتہ چھ دنوں سے نہ تو شراب پی ہے اور نہ ہی کوئی نشہ آور چیز لی ہے اور یہ میرے لیے کسی کرشمے سے کم نہیں۔‘

ٹائیسن نے کہا ’میں ان تمام لوگوں سے جھوٹ بولتا رہا جو مجھے سنجیدہ سمجھتے تھے لیکن میں سنجیدہ انسان نہیں ہوں۔ یہ میرا چھٹا دن ہے۔ میں اب کبھی بھی ان چیزوں کا استعمال نہیں کروں گا۔‘

اسی بارے میں