کون کہتا ہے ٹیم میں نوجوان کرکٹرز نہیں؟

Image caption اس سال ایک روزہ انٹرنیشنل میچز میں مصباح الحق نے808 رنز بنائے ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا یہ خیال ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے بھارت کی طرح زمبابوے کے خلاف نئے اور نوجوان کرکٹرز نہیں آزمائے وہ دراصل سب کوگمراہ کر رہے ہیں کیونکہ بھارت کے مقابلے میں پاکستانی ٹیم میں زیادہ نوجوان کرکٹرز موجود ہیں۔

مصباح الحق نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں یہ بات سن کر بڑی حیرت ہوئی ہے کہ جس طرح بھارت نے اپنے سینئر کھلاڑیوں کو زمبابوے کے خلاف آرام کرایا پاکستان کو بھی یہی کرنا چاہیے تھا۔

زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ میچز کی ضرورت

’ون ڈے سے ریٹائرمنٹ نہیں لے رہا‘

مصباح الحق نے کہا کہ بھارتی ٹیم میں اگر کوئی سینئر کھلاڑی موجود نہ تھا تو وہ کپتان مہندر سنگھ دھونی تھے لیکن ان کی جگہ جس کھلاڑی دنیش کارتک کو موقع دیا گیا وہ بھی نئے نہیں تھے۔ ان کے علاوہ شیکر دھون، سریش رائنا، روہیت شرما اور ویرات کوہلی جیسے تجربہ کار بیٹسمین ٹیم میں موجود تھے جبکہ ایشون کی جگہ کھلائے گئے مشرا بھی نئے نہیں ہیں۔

مصباح الحق نے کہا کہ پاکستانی ٹیم میں اس وقت سات آٹھ کھلاڑی نئے ہیں جنہوں نے بہت زیادہ انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی اور انہیں زمبابوے جیسی ٹیم کے خلاف کھلا کر ان کا تجربہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ حارث سہیل، عمر امین اور احمد شہزاد نے اتنی کرکٹ نہیں کھیلی جتنی بھارتی کرکٹرز کھیل چکے ہیں۔

مصباح الحق نے کہا کہ انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ مزید کتنے نئے کھلاڑی ٹیم میں شامل کئے جاتے؟ کیا انڈر19 ٹیم کھلانی ہے؟

مصباح الحق نے اپنی موجودہ عمدہ بیٹنگ فارم کے بارے میں کہا کہ ان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ ان کی بیٹنگ ٹیم کے کام آئے اور وہ اپنی موجودہ فارم کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سال ایک روزہ انٹرنیشنل میچز میں مصباح الحق نے808 رنز بنائے ہیں جو کمار سنگاکارا کے 883 رنز کے بعد دوسری بہترین کارکردگی ہے۔

مصباح الحق نے حالیہ میچز میں ٹاپ آرڈر بیٹنگ کی ناکامی کے بارے میں کہا کہ جب بیٹسمین متعدد اننگز میں بڑا اسکور نہیں کر پاتے تو ان کا اعتماد متاثر ہوجاتا ہے اور جیسے ہی انہوں نے اچھی اننگز کھیل لی ان کا اعتماد واپس آجائے گا۔

اسی بارے میں