کرکٹ: نشریاتی حقوق ٹین سپورٹس اور جیو سُپر کے پاس

Image caption پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان سیریز چودہ اکتوبر سے نومبر تک کھیلی جائے گی

پاکستان کرکٹ بورڈ نے جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی سیریز کے نشریاتی حقوق دو مختلف براڈ کاسٹرز کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف ہونے والی سیریز کے نشریاتی حقوق ٹین سپورٹس کو دیے گئے ہیں جبکہ جیو سُپر سری لنکا کے خلاف ہونے والی سیریز دکھائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دونوں نشریاتی حقوق کی مالیت بتانے سے انکار کیا ہے تاہم بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ یہ مجموعی رقم تقریباً ساڑھے آٹھ ملین ڈالرز ہے۔

براڈ کاسٹرز کے انتخاب کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کے سربراہ آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی تھے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا نگراں چیئرمین قرار دیتے ہوئے انہیں طویل المدتی اہم فیصلے کرنے سے روک رکھا ہے لہٰذا پاکستان کرکٹ بورڈ نے فی الحال دو ہزار اٹھارہ تک کے لیے براڈ کاسٹر کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ جیو سُپر ابھی تک پاکستان کرکٹ بورڈ کو ڈومیسٹک کرکٹ کے نشریاتی حقوق کے معاہدے کی پوری ادائیگی بھی نہیں کرسکا ہے اس کے باوجود اسے نیے نشریاتی حقوق دے دیے گئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے بی بی سی کے استفسار پر اس بات کی تصدیق کی کہ جیوسونے ابھی تک مکمل ادائیگی نہیں کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ بقایات جات کی خاصی بڑی رقم پاکستان کرکٹ بورڈ کو ادا کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ معاہدے میں بینک گارنٹی کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیش نہ آئے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نشریاتی حقوق کا معاملہ اس وقت سے ذرائع ابلاغ میں دلچسپی کی نظر سے دیکھا جارہا تھا جب نجم سیٹھی نے نگراں چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تھا اور اب جیو سُپر کو سری لنکا کے خلاف سیریز کے نشریاتی حقوق دیے جانے کے بعد کرکٹ کے حلقوں میں یہ بحث چل پڑی ہے کہ یہ معاہدہ کیا نجم سیٹھی کے جیو سے تعلق کا نتیجہ تو نہیں ہے؟

نشریاتی حقوق کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی کے سربراہ احسان مانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ جیو سُپر کا انتخاب نجم سیٹھی کی وجہ سے کیاگیا ہے جو جیو پر مستقل پروگرام کرتے ہیں۔

احسان مانی نے کہا کہ سات چینلز نے پیشکشیں کی تھیں ان تمام پیشکشوں کا بغور جائزہ لینے کے بعد میرٹ پر دونوں براڈ کاسٹرز کا انتخاب کیا گیا اور اس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا کوئی بھی افسر اثر انداز نہیں ہوا ہے۔

احسان مانی نے اس سوال پر کہ جیو سُپر نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نشریاتی حقوق کی مکمل ادائیگی نہیں کی اس کے باوجود اسے کیوں منتخب کیا گیا۔۔ کہا کہ یہ ان کی کمیٹی کا مینڈیٹ نہیں تھا یہ فیصلہ کرنا کرکٹ بورڈ کا کام ہے، کمیٹی نے بہترین پیشکشوں کو منتخب کرکے اپنی سفارشات کرکٹ بورڈ کے حوالے کردیں۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان سیریز چودہ اکتوبر سے نومبر تک کھیلی جائے گی جس میں دو ٹیسٹ، پانچ ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی ہونگے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹیسٹ ،پانچ ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی گیارہ دسمبر سے بیس جنوری تک کھیلے جائیں گے۔

اسی بارے میں