پاکستان: متوازی اولمپک کے عہدے داروں پر پابندی

اولمپک کونسل آف ایشیا نے پاکستان میں اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متوازی ایسوسی ایشن قائم کرنے والے پانچ عہدے داروں پر ایشیا میں کھیلوں کی تمام تر سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ان پانچ میں سے دو افراد کی اولمپک کونسل آف ایشیا کی مختلف کمیٹیوں کی رکنیت بھی معطل کر دی گئی ہے۔

جن عہدے داروں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں متوازی اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر میجر جنرل (ریٹائرڈ ) اکرم ساہی، ظفر عباس لاک اور غلام علی شامل ہیں۔

خواجہ فاروق سعید اور میجر (ریٹائرڈ) محمد افضل کی کمیٹی رکنیت بھی معطل کی گئی ہے جو بالترتیب رولز اور فنانس کمیٹی کے رکن تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اولمپک کونسل آف ایشیا کے اس فیصلے کے نتیجے میں ان پانچوں افراد کے ماتحت پاکستان ایشیا کی سطح پر کھیلوں میں حصہ نہیں لے سکے گا۔

اولمپک کونسل آف ایشیا کے صدر شیخ احمد الفہد الصباح کے دستخط سے جاری ہونے والے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ عہدیداران پاکستان میں متوازی ایسوسی ایشن قائم کر کے اولمپک تحریک کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں اور یہ صورت حال آئی او سی کے لیے باعث تشویش ہے کیونکہ جنرل ( ریٹائرڈ ) عارف حسن کی سربراہی میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن آئی او سی کے چارٹر کے مطابق موجود ہے۔

خیال رہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے پاکستان میں متوازی اولمپک ایسوسی ایشن کے قیام کا نوٹس لیتے ہوئے متعدد بار حکومت کو اس سے باز رہنے کے لیے کہہ چکی ہے تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے مبینہ حکومتی مداخلت میں تیزی آئی ہے جن میں اولمپک ہاؤس سے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو باہر نکالا جانا اور اکاؤنٹس کا منجمد کیا جانا قابل ذکر ہے۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نئے صدر کے انتخاب کے بعد پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور حکومتی نمائندوں کو دوبارہ طلب کرے گی جس کے بعد ہی وہ پاکستان کی رکنیت معطل کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گی۔

اسی بارے میں