آصف باجوہ مستعفی، رانا مجاہد نئے سیکرٹری

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ ان کی جگہ سابق اولمپئن رانا مجاہد نئے سیکرٹری بنا دیے گئے ہیں۔

آصف باجوہ نے مستعفی ہونے کا فیصلہ بدھ کو لاہور میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اجلاس میں کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایشیا کپ سے وطن واپسی کے بعد آصف باجوہ نے استعفے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جمہوری انداز میں سیکرٹری بنے ہیں اور استعفی دے کر بھاگنے والوں میں سے نہیں ہیں۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق آصف باجوہ نے پی ایچ ایف کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں ٹیم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انھوں نے سیکرٹری کی حیثیت سے ٹیم کی بہتری کے منصوبے تیار کیے تاہم نتائج ان کے دعووں کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔

آصف باجوہ جون سنہ 2008 میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری بنے تھے۔ ان کی تقرری کا اعلان اس وقت کے کھیلوں کے وفاقی وزیر نجم الدین خان نے کیا تھا ۔ایک منتخب سیکرٹری خالد محمود کو ہٹا کر آصف باجوہ کو سیکرٹری بنایا جانا متنازع صورت اختیار کرگیا تھا۔

آصف باجوہ کے سیکرٹری بننے کے صرف تین ماہ بعد میرظفراللہ جمالی کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا اور ان کی جگہ اس وقت برسراقتدار پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق اولمپئن قاسم ضیا پی ایچ ایف کے صدر بنا دیے گئے تھے۔

آصف باجوہ جتنا عرصہ بھی سیکرٹری پی ایچ ایف رہے انھیں پاکستانی ہاکی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے سبب زبردست تنقید کا سامنا رہا۔

ان کے دور میں پاکستانی ٹیم بیجنگ اولمپکس میں آٹھویں اور لندن اولمپکس میں ساتویں نمبر پر آئی جبکہ سنہ 2011 کی چیمپئنز ٹرافی میں آٹھ ٹیموں میں اس کی ساتویں پوزیشن رہی۔

آصف باجوہ سنہ 2010 کے عالمی کپ میں ہاکی ٹیم کے منیجر بن کر بھارت بھی گئے۔ اس عالمی کپ میں پاکستان نے بارہ ٹیموں میں سب سے آخری پوزیشن حاصل کی۔

پاکستانی ہاکی کے زوال کا تازہ ترین واقعہ آئندہ سال ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کرنا ہے۔

پاکستانی ٹیم کو ہاکی کے عالمی کپ تک رسائی کے لیے ایشیا کپ جیتنا ضروری تھا لیکن وہ اس ٹورنامنٹ میں تیسرے نمبر پر آئی۔

اس سے قبل ملائشیا میں ہونے والے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں بھی پاکستانی ٹیم نے آٹھ ٹیموں میں ساتویں پوزیشن حاصل کرکے عالمی کپ کھیلنے کا موقع گنوا دیا تھا۔

موجودہ فیڈریشن کے دور میں پاکستان صرف ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوسکا۔

آصف باجوہ کی جگہ سیکرٹری بننے والے رانا مجاہد سنہ 1994 کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم میں شامل تھے۔ وہ سنہ 1992 کے اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی موجودہ قیادت میں رانا مجاہد کو قاسم ضیا اور آصف باجوہ کے ساتھ اہم پوزیشن حاصل رہی ہے اور تمام فیصلے یہی تین افراد کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں