پاکستانی ٹیم میں تبدیلیاں ہوں گی: واٹمور

Image caption مصباح الحق سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے والے کپتان ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم آئندہ ماہ جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلنے والی ہے اور عام خیال یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سیریز کا نتیجہ کوچ ڈیو واٹمور کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے کافی ہوگا۔

واٹمور گذشتہ سال مارچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ مقرر کیے گئے تھے لیکن بحیثیت کوچ وہ ابھی تک کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت پائے ہیں جب کہ ان کا دو سالہ معاہدہ ختم ہونے میں صرف چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں ۔

ڈیو واٹمور کو زمبابوے جیسی کمزور ٹیم کے خلاف ٹیسٹ میچ کی شکست کے بعد سے سخت تنقید کا سامنا ہے اور متعدد سابق ٹیسٹ کرکٹروں نے ان کی برطرفی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

’پاکستان کے پاس نہ اچھے باؤلر، نہ اچھے بلے باز‘

’واٹمور باصلاحیت مگر کوچ مقامی ہی ہو‘

واٹمور پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ

واٹمور کا کہنا ہے کہ زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میچ ہارنے سے انہیں سخت مایوسی ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ٹیم نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس سے آپ میچ نہیں جیت سکتے، تاہم وہ کسی کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے شکست کے اسباب دیکھ رہے ہیں تاکہ غلطیوں سے سبق سیکھا جائے اور خامیاں دور کی جائیں۔

واٹمور کا کہنا ہے کہ شائقین کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ زمبابوے کی ٹیم نے پاکستانی ٹیم کا سخت مقابلہ کیا ۔وہ اپنی ہوم کنڈیشنز میں بہت اچھی ٹیم ثابت ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میچ کی شکست نے سب کو مایوس ضرور کیا ہے لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سیریز نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کی تیاری میں مدد دی ہے ۔

واٹمور کے مطابق انھیں اپنی ٹیم پر بھروسا ہے اور متحدہ عرب امارات میں کنڈیشنز زمبابوے سے مختلف ہوں گی۔

واٹمور کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کی قوت اور متحدہ عرب امارات کی وکٹوں کو دیکھتے ہوئے پاکستانی ٹیم میں بھی تبدیلیاں ہوں گی۔

واٹمور اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری نیک نیتی اور دلجمعی سے نبھانے کی ہرممکن کوشش کی ہے اور یہ کہہ سکتے ہیں کہ رات وہ سکون سے سوتے ہیں لیکن اگر ان پر تنقید ہوتی ہے تو وہ لوگوں کی سوچ کو قابو نہیں کرسکتے۔ کسی بھی دوسرے شخص کی طرح ان سے بھی غلطی ہوتی ہے جسے وہ تسلیم کرتے ہیں۔

واٹمور سے جب مصباح الحق کی کپتانی کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنا بہت آسان ہے۔ مصباح الحق سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے والے کپتان ہیں۔ یہی کچھ ان کی بیٹنگ میں بھی جھلکتا ہے وہ ابتدا میں کچھ وقت لیتے ہیں لیکن بعد میں موثر ثابت ہوتے ہیں۔ اس سال انہوں نے مستقل مزاجی سے سکور کیا ہے۔

اسی بارے میں