مصباح الحق کو سیٹھی کا اعتماد حاصل

Image caption پاکستانی کرکٹ ٹیم کو آئندہ ماہ جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلنی ہے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کرکٹ بورڈ کے نگراں چیئرمین نجم سیٹھی سے مختصر ملاقات کی ہے۔

یہ ملاقات مصباح الحق کی زمبابوے اور بھارت کے دورے سے وطن واپسی پر قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہوئی تاہم اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

یاد رہے کہ مصباح الحق زمبابوے کے دورے کے بعد چیمپیئنز لیگ کھیلنے بھارت گئے تھے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو آئندہ ماہ جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلنی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیم کے ٹرائیکا (کپتان، کوچ، مینیجر) کو فی الحال تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔

پاکستانی ٹیم میں تبدیلیاں ہوں گی: واٹمور

کون کہتا ہے ٹیم میں نوجوان کرکٹرز نہیں؟

زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ میچز کی ضرورت

معین خان جنھیں زمبابوے کے دورے میں ٹیم کا منیجر مقرر کیا گیا تھا، جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے لیے بھی منیجر برقرار رکھے گئے ہیں اسی طرح بالنگ کوچ محمد اکرم کو بھی گرین سگنل دیا جاچکا ہے۔

کپتان مصباح الحق اور کوچ ڈیو واٹمور کو زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میچ کی شکست کے بعد سے زبردست تنقید کا سامنا رہا ہے۔

واٹمور نے گزشتہ دنوں نجم سیٹھی سے ملاقات بھی کی تھی۔ان کے معاہدے میں پانچ ماہ باقی رہ گئے ہیں اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ان کے معاہدے کی تجدید نہیں کرے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نگراں چیئرمین نجم سیٹھی گزشتہ دنوں مصباح الحق کی کپتانی کا دفاع کر چکے ہیں اور انھوں نے واضح کر دیا ہے کہ مصباح الحق کو کپتانی سے ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

مصباح الحق کو زمبابوے کے دورے سے قبل اس بات کی شکایت تھی کہ سلیکشن کمیٹی نے ٹیم منتخب کرتے وقت ان سے مشورہ لینا بھی گوارا نہیں کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت قومی سلیکشن کمیٹی چیئرمین کے بغیر کام کر رہی ہے کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے معین خان کی چیف سلیکٹر کے عہدے پر کی گئی تقرری کالعدم قرار دے دی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی رو سے نجم سیٹھی کو اہم نوعیت کے بڑے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اور بین الصوبائی کی وزارت نے اس فیصلے کے خلاف اپیلیں بھی دائر کر رکھی ہیں لیکن دو ماہ سے اس مقدمے کی سماعت نہیں ہوسکی ہے۔

اسی نوعیت کا ایک مقدمہ سندھ ہائی کورٹ میں بھی زیرسماعت ہے جس کا فیصلہ عدالت نے محفوظ کر لیا ہے۔

اسی بارے میں