نہیں، میں بھارت نہیں جاؤنگا

اسد رؤف
Image caption اسد رؤف پر مبینہ طور پر بک میکرز سے قیمتی تحائف وصول کرنے اور انہیں میچز کی معلومات فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔

پاکستانی کرکٹ امپائر اسد رؤف نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ممبئی پولیس کی فرد جرم کا جواب دینے کے لیے بھارتی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہونگے۔

یاد رہے کہ ممبئی پولیس نے انڈین پریمیئر لیگ میں مبینہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں جن بائیس افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی ہے ان میں اسد رؤف بھی شامل ہیں۔

اسد رؤف پر مبینہ طور پر بک میکرز سے قیمتی تحائف وصول کرنے اور انہیں میچز کی معلومات فراہم کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

اسد رؤف نے جمعہ کے روز لاہور میں اپنے وکیل سید علی ظفر کے ساتھ پریس کانفرنس میں اپنے اوپر عائد تمام الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ انہیں بھارتی عدالت پر بھروسہ ہے لیکن ممبئی پولیس پر بالکل اعتبار نہیں ہے۔

اسد رؤف کے وکیل کا کہنا ہے کہ ’ان کے موکل بھارت نہیں جائیں گے کیونکہ جو پولیس ان کی کردار کشی کر کے ان پر بے بنیاد الزامات عائد کرسکتی ہے وہ انہیں حراست میں بھی لے سکتی ہے‘۔

سید علی ظفر نے کہا کہ انہیں ابھی تک ممبئی پولیس کی فرد جرم کی کاپی نہیں ملی ہے اور صرف ذرائع ابلاغ سے ہی پتہ چلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو چارج شیٹ میڈیا میں رپورٹ ہوئی ہے اس میں کہیں بھی یہ بات موجود نہیں کہ اسد رؤف نے میچ فکسنگ کے لیے کھلاڑیوں سے رابطہ کیا ہو۔

سید علی ظفر کا کہنا ہے کہ اسد رؤف پر بُک میکرز کے ساتھ ملکر سٹے بازی یا شرطیں لگانے کا الزام ہے لیکن اس کی بھی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔

اسد رؤف نے اس بات کی بھی سختی سے تردید کی کہ مبینہ طور پر انہیں دیے گئے تحفے کے دو بیگ دلی ائرپورٹ پر روک لیے گئے تھے جن میں زیورات اور قیمتی گھڑیاں شامل تھیں۔

اسد رؤف نے کہا کہ یہ ان کے اپنے بیگ ہیں جس میں موجود ایک ایک چیز کے بارے میں وہ وثوق سے بتاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان بیگوں میں انبیاء اور اولیائے کرام کے مزارات کی چادریں اور مٹی موجود ہے جو ان کے بیمار بیٹے کے علاج کے سلسلے میں ان کے ایک دوست نے بغداد سے لاکر دی تھی۔

اسد رؤف نے کہا کہ وہ ممبئی پولیس کو چیلنج کرتے ہیں کہ یہ بیگ عدالت میں کھولے جائیں اور دنیا کو بتایا جائے کہ ان میں کیا ہے۔

اسی بارے میں