حفیظ دو سیریز نہیں دو سال سے آؤٹ آف فارم

Image caption جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی چھ اننگز میں بھی محمد حفیظ بری طرح ناکام رہے تھے اور صرف تنتالیس رنز بناسکے تھے

جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز کے لیے ممکنہ 28 کھلاڑیوں میں اوپننگ بیٹسمین عمران فرحت اور توفیق عمر کو شامل نہ کیے جانے اور محمد حفیظ کی موجودگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

محمد حفیظ اس وقت پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان ہیں۔ مختصر دورانیے کی کرکٹ میں ان کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے لیکن گزشتہ دو سال سے وہ ٹیسٹ میچوں میں قابل ذ کر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

’سات میں سے پانچ ٹیسٹ سیریز جیتیں تو سب اچھا تھا‘

جنوبی افریقہ کے لیے ممکنہ کھلاڑیوں کا اعلان

محمد حفیظ کی خراب فارم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ زمبابوے کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں وہ صرف 59 رنز بناسکے۔ اس سے قبل جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی چھ اننگز میں بھی وہ بری طرح ناکام رہے تھے اور صرف 43 رنز بناسکے تھے۔

یہ صرف انہی دو سیریز پر موقوف نہیں ہے بلکہ دو گذشتہ دو سال سے ٹیسٹ میچوں میں تگ ودو کر رہے ہیں اور اس عرصے میں 33 اننگز میں صرف تین سنچریاں سکور کرسکے ہیں۔

کچھ حلقوں کا یہ خیال ہے کہ عمران فرحت اور توفیق عمر کو ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل نہ کر کے محمد حفیظ کے لیے ٹیسٹ ٹیم تک رسائی کو آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل دیگر اوپنرز احمد شہزاد، شان مسعود اور خرم منظور ہیں۔

ان تینوں میں سے صرف خرم منظور ایسے اوپنر ہیں جو ٹیسٹ کرکٹ کھیلے ہیں۔ شان مسعود کو عمران فرحت کی جگہ زمبابوے کے دورے کی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا لیکن حفیظ اور خرم منظور کے ہوتے ہوئے انہیں کھیلنے کا موقع نہ مل سکا۔

احمد شہزاد بنیادی طور جارحانہ انداز کے بیٹسمین ہیں اور ان کی بین الاقوامی کرکٹ 15 ٹی ٹوئنٹی اور 27 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں تک محدود رہی ہے۔

اس پس منظر میں اگرسلیکٹرز ٹیسٹ سکواڈ کے لیے تین اوپنر منتخب کرتے ہیں تو ان میں خرم منظور اور شان مسعود کے ساتھ محمد حفیظ اپنے تجربے کی بنیاد پر جگہ بناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر پاکستان کرکٹ بورڈ مستقبل پر نظر کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتا ہے، جیسا کہ ممکنہ کھلاڑیوں کے سلیکشن کے موقع پر نگراں چیئرمین نجم سیٹھی نے اس پر زور بھی دیا ہے، تو احمد شہزاد خرم منظور اور شان مسعود متحدہ عرب امارات جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

محمد حفیظ کو ٹیسٹ ٹیم سے باہر ہونے سے روکنے کے لیے یہ تجویز بھی سامنے آچکی ہے کہ انہیں مڈل آرڈر بیٹسمین کے طور پر کھلایا جائے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سلیکٹرز قومی کیمپ میں کھیلے جانے والے پریکٹس میچوں کی کارکردگی کو سلیکشن کے لیے مدنظر رکھیں گے؟ کیونکہ اگر آؤٹ آف فارم محمد حفیظ یا اسد شفیق نے ان میچوں میں بڑی اننگز کھیل ڈالی تو ان کی سابقہ خراب کارکردگی پر بڑی آسانی سے پردہ ڈال دیا جائے گا۔

سلیکشن کے اس سارے میں عمل میں سب سے اہم بات یہ سامنے آئی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ مستقبل کے کپتان کے طور پر عمر امین کو تیار کر رہا ہے۔ انہیں پاکستان اے کا کپتان بنایا جانا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

عمر امین نے گذشتہ سیزن کی پریزیڈنٹ ٹرافی میں سات سو سے زائد رنز کیے لیکن انہیں محدود اوورز کی کرکٹ کے لیے منتخب کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان اے کی کپتانی دیے جانے کے بعد اس بات کے بھی امکانات موجود ہیں کہ عمر امین کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرتے ہوئے انہیں نائب کپتان بنادیا جائے۔

اسی بارے میں