ورلڈ کپ:’قطر کی میزبانی کو خطرہ نہیں‘

Image caption فیفا کے نائب صدر جم بوائس نے اصولی طور پر ورلڈ کپ سردیوں میں کرانے کے موقف کی تائید کی ہے

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کی گورننگ باڈی کے ذرائع نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا ہے کہ تنظیم جمعہ کو اس بات کا اعلان کر رہی ہے کہ قطر کے 2022 میں فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے کے حق کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

قطر کو غیر ملکی مزدوروں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے الزامات کا سامنا ہے جبکہ یہ بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ وہاں شدید گرمی کی صورت میں کھلاڑیوں اور تماشائیوں کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

قطر میں موسمِ گرما میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سنٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔

قطر میں کام کی سہولیات نہ ہونے پر تشویش

فٹ بال ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی کے لیے آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور امریکہ بھی امیدوار تھے لیکن اس کے لیے قطر کو چنا گیا تھا۔

توقع ہے کہ فیفا جمعے کو قطر میں غیر ملکی مزدوروں کے ساتھ سلوک کے معاملے کی نگرانی کے لیے اپنے منصوبے کا اعلان بھی کرے گی۔

قطر میں تارکینِ وطن کے ساتھ ناروا سلوک کے بارے میں برطانوی اخبار گارڈین نے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ نیپال سے آنے والے افراد کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے ’وہ جدید دور کی غلامی‘ کے مترادف ہے۔

فیفا ایک ٹاسک فورس بنانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے جس کی سربراہی ممکنہ طور پر ایشین فٹ بال کنفیڈریشن کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کریں گے۔

یہ ٹاسک فورس ورلڈ کپ کے لیے متبادل تاریخوں کا جائزہ لے گی اور دنیا کے اہم اداروں اور فٹ بال کی مقامی تنظیموں سے مشورے کے بعد تجاویز پیش کرے گی۔

فیفا کے صدر سیپ بلاٹر نے اگست میں کہا تھا کہ وہ فٹ بال ورلڈ کپ کو روایتی مہینوں جون جولائی میں نہیں کروانا چاہتے۔ ان کے اس بیان کا مقصد فیفا کی گورننگ باڈی کو جمعے کو زیورخ میں ہونے والے اجلاس میں شیڈول کی تبدیلی کے لیے ووٹ دینے پر آمادہ کرنا تھا۔

لیکن فیفا کی طاقت ور ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران کا جن میں یوئیفا کے صدر میچل پلاٹینی بھی شامل ہیں، خیال ہے کہ اس معاملے پر صحیح معنوں میں مشاورت کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

فیفا کی انسپکشن ٹیم کے سربراہ ہیرلڈ میئن نیکول جنہوں نے 2022 ورلڈ کپ کے لیے قطر کی میزبانی کی درخواست کا تجزیہ کیا تھا، نے کہا ہے کہ اگر فیفا ورلڈ کپ کے اوقات کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو ان کے خیال میں اس کے لیے موزوں وقت جنوری اور فروری ہے کیونکہ ان مہینوں میں خلیجی ریاست قطر میں اوسط درجۂ حرارت 22 ڈگری سنٹی گریڈ ہوتا ہے۔

Image caption یقین کریں وہاں ٹھیک طرح سے کھیلنا ناممکن ہے: سابق فرانسیسی کھلاڑی

تاہم فٹ بال ورلڈ کپ کی شیڈول میں تبدیلی کھیلوں کے دوسرے بڑے ٹورنامنٹس کے ساتھ متضادم ہو سکتی ہے، خاص کر سردیوں میں ہونے والے اولمپکس، امریکی سپر باؤل فٹ بال ٹورنامنٹ، مقامی فٹ بال لیگز اور چیمپیئنز لیگ۔

سابق فرانسیسی کھلاڑی لوئی ساحا نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا کہ ان کے خیال میں کھلاڑیوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کا درجۂ حرارت برداشت کرنا نا ممکن ہے۔

’میں حال میں قطر میں تھا جہاں درجۂ حرارت 48 ڈگری سنٹی گریڈ تھا۔ یقین کریں وہاں ٹھیک طرح سے کھیلنا ناممکن ہے۔‘

فیفا کے نائب صدر جم بوائس نے اصولی طور پر ورلڈ کپ سردیوں میں کرانے کے موقف کی تائید کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں ورلڈ کپ کے شیڈول پر یہ فیصلہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا۔۔ کہ نومبر ، جنوری یا کب ہو۔۔ جب تک ہم اس کھیل سے متعلقہ افراد بات چیت کے ذریعے اس کا حل نہ نکالے۔‘

اسی بارے میں