سچن کی ٹیم میں ڈراوڈ نمبر تین پر

Image caption راہول ڈراوڈ ، سچن تندولکر اور کنگولی نے کئی برسوں تک بھارتی بیٹنگ کو سنبھالے رکھا

بھارت میں ٹی 20 چیمپیئنز ليگ کے فائنل میں انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم ممبئی انڈینز نے راجستھان رائلز کو شکست دے دی ہے۔

اس فائنل کی اہم بات یہ تھی کہ یہ بھارت کے دو اہم بلے بازوں سچن تندولکر اور راہول ڈراوڈ کے کیریئر کا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ تھا۔

اتوار اور سوموار کی درمیانی شب دارالحکومت دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں ممبئی انڈینز نے 33 رنز سے فتح حاصل کی۔

ممبئی انڈینز نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے چھ وکٹ پر 202 رنز سکور کیے۔

جس کے جواب میں اچھے آغاز کے باوجود راجستھان کی ٹیم کی یہ ہدف عبور نہیں کر سکی اور انیسویں اوورز میں 169 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔

ممبئی انڈينز کی جیت کے ہیرو ہربھجن سنگھ رہے جنہوں نے اننگز کے 17 ویں اوور میں اجنكيا رہانے، اسٹیورٹ بنّي اور كیرون کوپر کی وکٹیں لے کر میچ کا رخ بدل دیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے راجستھان رائلز کے بہترین آل راؤنڈر شین واٹسن کی وکٹ بھی حاصل کی اور اس عمدہ کارکردگی پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

Image caption سچن نے اسی ٹورنامنٹ میں اپنے کرکٹ کیریئر کے 50 ہزار رنز بھی مکمل کیے تھے

اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 288 رنز اسکور کرنے کے لیے راجستھان رائلز کے اجنکیا رہانے کو گولڈن بیٹ سے نوازا گیا جب کہ اسی ٹیم کے 41 سالہ بولر پروین تامبے کو سب سے زیادہ 12 وکٹیں لینے پر گولڈن بال ملی۔

ممبئی انڈینز کے بھارتی بلے باز سچن تندولکر اس میچ میں صرف ایک رن ہی بنا سکے لیکن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کے آخری میچ میں سٹیڈیم میں موجود شائقین نے دیر تک تالیاں بجا کر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور الوادع کہا۔

سچن نے اس سال آئی پی ایل کا چھٹا ایڈیشن جیتنے کے بعد آئی پی ایل کو الوداع کہا تھا اور اب چیمپیئنز لیگ جیتنے کے بعد وہ اس مختصر فارمیٹ کی کرکٹ سے مکمل طور پر ریٹائر ہو گئے ہیں۔ وہ اس سے قبل ایک روزہ کرکٹ سے بھی ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں اور اب صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

اس میچ میں سچن کے علاوہ اپنے زمانے میں بھارتی ٹیم کا مضبوط ستون تصور کیے جانے والے راہول ڈراوڈ نے بھی کرکٹ کے کھیل کو مکمل طور پر خیرباد کہنے کا اعلان کیا۔ ڈراوڈ نے 2012 کے آغاز میں ہی بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہہ دیا تھا تاہم وہ ٹی ٹوئنٹی لیگ مقابلوں میں حصہ لے رہے تھے۔

Image caption میں جانتا تھا کہ مشکل گھڑی میں آپ ڈراوڈ پر اعتماد کر سکتے ہیں:سچن تندولکر

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے اپنے آخری میچ سے پہلے کہا، ’سچن میری ہی عمر کے ہیں یا مجھ سے دو ماہ چھوٹے ہیں لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں وہ مجھ سے سات سال سینیئر ہیں۔ جب میں اپنا تیسرا ٹیسٹ کھیل رہا تھا تو وہ بھارت کے کپتان تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایک نوجوان کرکٹر کے لیے سچن مثالی تھے۔ کم عمری میں ہی انہوں نے دنیا بھر میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا تھا۔ ہمیں لگتا تھا کہ جب سچن ایسا کارنامہ کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔ ان کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا موقع حاصل کرنا ہمارے لیے بہت بڑی ترغیب تھی۔‘

سچن نے بھی ڈراوڈ کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ’بلاشبہ وہ تکنیکی طور پر انتہائی اہل بلے باز ہیں۔ میری ٹیم میں وہ ہمیشہ نمبر تین پر رہیں گے کیونکہ اس پوزیشن پر انہوں نے کئی یادگار اننگز کھیلی ہیں۔ جہاں دوسرے بلے بازوں کے لیے کریز پر ٹکنا مشکل ہو جاتا تھا، ڈراوڈ آسانی سے کھیلتے تھے۔‘

سچن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں جانتا تھا کہ مشکل گھڑی میں آپ ڈراوڈ پر اعتماد کر سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں