جنوبی افریقی بالروں کو گھاس نہیں ملے گی

Image caption مصبح الحق پاکستان کے ایک کامیاب کپتان ہیں

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حالات میں پاکستان ٹیم کو جنوبی افریقی ٹیم پر واضح برتری حاصل ہے۔

منگل کو شیخ زید سٹیڈیم میں ایک تربیتی سیشن کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے کپتان مصباح الحق نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنوبی افریقہ دنیا کی اول نمبر کی ٹیم ہے لیکن متحدہ عرب امارات میں حالات بالکل مختلف ہیں۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ان حالات میں جنوبی افریقہ کے تیز رفتار بالر ڈیل سٹین اور ورنن فلینڈر اتنے سود مند ثابت نہیں ہوں گے جتنے وہ اپنے وطن میں اپنے میدانوں میں تھے، اور پاکستان کے بلے باز اس عنصر کا بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سٹین اور فلینڈر کو پچ پر دس سے 15 ملی میٹر تک کی گھاس نہیں ملے گی۔ تاہم انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ دونوں عالمی معیار کے بالر ہیں اور کسی بھی میدان میں اور ہر قسم کے حالات میں کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم توجہ سے کھیلیں تو اچھے نتائج حاصل کر سکتے ہیں جیسا کہ ہم نے اسی ٹیم کے خلاف 2010 میں کیا تھا۔‘

مصباح کا بیان جنوبی افریقہ کے بالنگ کوچ ایلن ڈونلڈ کے بیان کے پس منظر میں آیا تھا جس میں انھوں نے خبردار کیا تھا کہ سٹین مکمل طور پر فٹ ہیں اور اس سیریز میں اچھی کارکردگی دکھانے اور زیادہ سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔

پاکستان کے کپتان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں تیز رفتار بالروں کے لیے ماحول اتنا موافق نہیں ہو گا جب کہ یہ سپن بالروں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

پاکستان کے بلے باز گذشتہ سیریز میں کوئی زیادہ بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکے اور اب بھی ان کی بلے بازوں کی فہرست کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی ہے۔ پاکستان کی اننگز کا آغاز کن دو بلے بازوں سے کیا جائے گا، اس کے بارے میں بھی ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔

پاکستان نے خراب کارکردگی کی بنا پر محمد حفیظ کی ٹیم میں شامل نہیں کیا اور ان کی جگہ خرم منظور اور ایک نئے بلے باز شان مسعود کو شامل کیا ہے۔

شان مسعود نے تین روزہ وارم اپ میچ میں احمد شہزاد کے ساتھ پاکستان ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا۔