’کبھی صحیح کبھی غلط، ہاٹ سپاٹ قابل اعتماد نہیں‘

Image caption ہاٹ سپاٹ حرارتی تصویر سے یہ معلوم کرتی ہے کہ گیند بلے سے لگا یا نہیں

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اینڈریو سٹراس نے بھی اس فیصلے کی تائید کی ہے جس کے تحت آسٹریلیا میں کھیلی جانے والی ایشز سیریز میں ہاٹ سپاٹ کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کرکٹ میں اس وقت امپائرز کی مدد کے لیے دو طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ایک ہے سنیکو اور دوسرا ہے ہاٹ سپاٹ۔

سنیکو بلہ سے گیند لگنے کی آوام کو پکڑتا ہے جبکہ ہاٹ سپاٹ حرارتی تصویر سے یہ معلوم کرتی ہے کہ گیند بلے سے لگا یا نہیں۔

آسٹریلیا میں ہونے والی ایشز کے میزبان براڈکاسٹر چینل نائن کا کہنا ہے کہ وہ اس سیریز میں حرارتی تصویر کی ٹیکنالوجی یا ہاٹ سپاٹ استعمال نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ رواں سال انگلینڈ میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی سیریز میں ہاٹ سپاٹ پر کافی تنقید کی گئی تھی۔

اینڈریو سٹراس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہاٹ سپاٹ سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔ کبھی اس میں دکھائی دیتا ہے اور کبھی نہیں۔ اس لیے کسی کو بھی اس پر اعتماد نہیں ہے۔‘

ہاٹ سپاٹ کی کمزوریاں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے مابین سیریز میں اس وقت سامنے آئیں جب ہاٹ سپاٹ میں دکھائی دیا کہ گیند بلے سے نہیں لگی جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔

سٹراس نے کہا ’پاٹ سپاٹ سو فیصد درست نہیں ہے۔ اگر ہم نے ٹیکنالوجی استعمال کرنی ہی ہے تو وہ کریں جو سو فیصد درست ہو۔‘

سٹراس کی اس تنقید کو ہاٹ سپاٹ کے بانی وارن برینن نے قبول کیا۔ برینن اس وقت اس ٹیکنالوجی میں مزید بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔

برینن نے کہا ’میں جانتا ہوں کہ سٹراس ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا کی سیریز میں تین سے چھ فیصلے اسے تھے جو لوگ سمجھتے ہیں کہ غلط دیے گئے۔ سنیکو میٹر میں بھی ان فیصلوں کو غلط قرار دیا گیا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’لوگوں کا ہاٹ سپاٹ پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ لیکن اسی سیریز میں دس ایسے فیصلے بھی تھے جو ہاٹ سپاٹ نے صحیح دیے۔ امپائر نے آؤٹ دیا لیکن ہاٹ سپاٹ نے کہا ناٹ آؤٹ۔‘

برینن نے کہا ’غلط اور صحیح دونوں ہیں لیکن لوگ سو فیصد درست چاہتے ہیں۔ اور لوگ زیادہ وقت غلط فیصلوں پر سرف کرتے ہیں اور کم وقت صحیح فیصلوں پر۔‘

برینن کا کہنا تھا کہ اگلے سال ہاٹ سپاٹ میں زیادہ بہتر کیمرے استعمال کیے جائیں گے جس سے اس کی کارکردگی بہتر ہو گی۔

برینن کی کمپنی نے سنیکو میٹر کو بھی بہتر بنایا ہے اور آئی سی سی اس وقت تجربے کر رہی ہے تاکہ اس کو بین الاقوامی میچوں میں استعمال کیا جائے۔

اسی بارے میں