یہ راستہ جیت کی طرف جارہا ہے

Image caption اسد شفیق نے بھی اس اننگز میں نصف سنچری بنائی

اس سال جنوبی افریقہ میں تین صفر کی ہزیمت نے پاکستانی ٹیم کو بری طرح جھنجھوڑ ڈالا تھا جس کے اثرات سے وہ چیمپئنز ٹرافی اور پھر زمبابوے کے دورے میں بھی نکل نہیں سکی تھی لیکن اب اسی جنوبی افریقہ کے خلاف شاندار کارکردگی نے ٹیم کو ایک بڑی جیت کے قریب کردیا ہے۔

خرم منظور اور شان مسعود نے ایک بڑے اسکور کا جو موقع فراہم کیا تھا مصباح الحق اور اسد شفیق کی ذمہ داری نے اسے ضائع نہیں ہونے دیا ۔

پاکستانی بالنگ کا بہترین سپیل، آملہ بھی آؤٹ

پاکستان کو حاصل ہونے والی ایک سو ترانوے رنز کی برتری کو فیصلہ کن بنانے کے لئے پاکستانی بولرز حرکت میں آچکے ہیں اور جنوبی افریقی ٹیم اپنے چار اہم بیٹسمینوں سے محروم ہونے کے بعد یہ جان چکی ہے کہ بچ نکلنے کے راستے بند ہوتے جارہے ہیں۔

Image caption ذوالفقار بابر نے ہاشم آملہ کو پہلے ہی اور میں آؤٹ کر دیا

پاکستانی کرکٹ کا ہمیشہ سے یہ تکلیف دہ پہلو رہا ہے کہ ایک خراب کارکردگی سے کھلاڑی کا کیریئر ہی داؤ پر لگ جاتا ہے۔

زمبابوے کے خلاف شکست کے بعد مصباح الحق کئی لوگوں کی نظروں میں کھٹکنے لگے تھے اور ماضی کی ان کی کئی کامیابیاں بھلا کر یہ تک کہہ دیا گیا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز ان کے مستقبل کا تعین کرے گی۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک ایسا بیٹسمین جو اپنے تمام دیگر ساتھیوںسے زیادہ مستقل مزاجی سے رنز کر رہا ہو اسے صرف اس لیے ہدف بنایا جاتا رہے کہ وہ کپتان ہے۔

اگر مصباح کو صرف بحیثیت بیٹسمین ہی دیکھا جائے تو وہ کسی بھی دوسرے بیٹسمین کے مقابلے میں واضح اور کسی بحث کے بغیر باآسانی ٹیم میں شامل ہوتے ہیں۔

جنوبی افریقہ کےخلاف ان کی سنچری درحقیقت تنقید برائے تنقید کرنے والے دانشوروں کو بھرپور جواب ہے ۔ حالانکہ اس سنچری سے پہلے بھی مصباح الحق اس سال ٹیسٹ میچز میں چار نصف سنچریاں بناچکے ہیں اور یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اس سال ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کے بنائے گئے نو سو اکسٹھ رنز بشمول گیارہ نصف سنچریاں دنیا کے کسی بھی بیٹسمین کے سب سے زیادہ رنز ہیں۔

اسد شفیق کے لئے بھی یہ اننگز اس لئے اہم تھی کہ وہ ٹیم میں شامل ہونے والے آخری کھلاڑی تھے ۔ برتری بڑھانے میں ان کی نصف سنچری کا اہم حصہ رہا لیکن اب انہیں خود کو تین ہندسوں کے لئے تیار کرنا ہوگا کیونکہ ماضی میں انہی کی طرح کے ایک باصلاحیت بیٹسمین عاصم کمال سنچری نہ کرنے کے سبب کپتان کا اعتماد حاصل نہ کرپائے اور ٹیم سے باہر ہوگئے تھے۔

عالمی رینکنگ کے نمبر ایک بولر ڈیل اسٹین وکٹ سے مدد نہ ملنے پر خاصے پریشان رہے۔ وہ مستند بیٹسمینوں میں صرف مصباح کو آؤٹ کرسکے لیکن بیٹسمینوں کے سامنے ان کی خود سری اور زبان درازی کا امپائرز نے کوئی نوٹس نہیں لیا ۔

اگر سلیجنگ اور غصہ دکھاکر ہی بولرز کو وکٹیں مل رہی ہوتیں تو ڈیل اسٹین، مرون ڈلن اور سری ناتھ جیسے بولرز کی وکٹوں کی تعداد مرلی شین وارن اور گلین میک گرا سے کہیں زیادہ ہوتی۔