انسداد بدعنوانی کے نئے ضابطےکے بعد ہی عامر پر نرمی پر غور: آئی سی سی

Image caption محمد عامر پر سنہ دو ہزار پندرہ میں پابندی ختم ہو گی

عالمی کرکٹ کونسل آئی سی سی نے کہا ہے کہ پاکستان کے فاسٹ بالر محمد عامر پر عائد پابندی پر اسی وقت غور کیا جا سکے گا جب کونسل کے انسداد بدعنوانی کے ضابطے میں تبدیلی لائی جائے۔

یہ باتیں کرکٹ کی منتظمہ تنظیم نے سنیچر کو لندن میں اپنی دو روزہ میٹنگ کے بعد کہی۔

لندن میں آئی سی سی کے دو روزہ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ کرکٹ میں بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے آئندہ جنوری میں ہونے والی میٹنگ میں انسداد بدعنوانی کے لیے زیادہ ٹھوس اور مستحکم ضابطے پیش کیے جائيں گے۔

اپنی غلطی کو ٹھیک کرنا چاہتا ہوں: عامر

محمد عامر پر نرمی کی درخواست

آئی سی سی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انسداد بدعنوانی کے نئے ضابطے کو حتمی شکل دینے اور اسے نافذ کرنے کے بعد ہی آئی سی سی بورڈ محمد عامر کے معاملے پر غور کرے گا۔‘

واضح رہے کہ انگلینڈ کے جائلز کلارک اس مجلس عاملہ کی صدارت کر رہے ہیں جو ان قوانین پر غور کر رہا ہے جس کے تحت سنہ 2010 میں لارڈز کے میدان پر ایک ٹیسٹ میچ کے دوران سپاٹ فکسنگ معاملے میں عامر پر پانچ سال کی پابندی عائد کی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستانی فاسٹ بالر محمد عامر نے امید ظاہر کی تھی کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل ان کی سزاء کو معاف کرتے ہوئے انہیں ملکی سطح پر کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دے گی۔

عامر کو دھوکے کے الزام میں لندن میں جیل بھی ہوئی تھی لیکن ان کے اچھے برتاؤ کے لیے انہیں جلدی رہائی مل گئی تھی۔

محمد عامر پر سنہ دو ہزار دس میں اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ اور تیز رفتار بالر محمد آصف سے سپاٹ فکسنگ کے الزامات ثابت ہونے کے بعد کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

محمد آصف اور سلمان بٹ پر دس دس سال کی پابندی لگا دی گئی تھی جبکہ محمد عامر پر پانچ سال کی پابندی لگائی گئی تھی۔

سپاٹ فکسنگ کا یہ سکینڈل ایک برطانوی اخبار ’دی سن‘ سامنے لایا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی جنھوں نے چند ماہ قبل آئی سی سی کی گزشتہ میٹنگ میں عامر کی بات اٹھائی تھی۔

انھوں نے سنیچر کو ایک بار پھر عامر کے لیے ’پرجوش اپیل‘ کی تاکہ انہیں ستمبر 2015 میں پابندی کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی فرسٹ کلاس کرکٹ میں کھیلنے کی اجازت دی جائے۔

پی سی بی نے محمد عامر کے معاملے کی پیروی کے لیے ملکہ برطانیہ کے ایک مشیر کی خدمات بھی لی ہیں۔

پی سی بی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ملکہ برطانیہ کے مشیر نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ اب جب کہ مجرم عامر نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے اس کے بعد اس پابندی کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی۔‘

اس میٹنگ سے قبل اکیس سالہ محمد عامر نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ’ہر کسی کو زندگی میں دوسرا موقع ملتا ہے، میں دعا کرتا ہوں کہ آئی سی سی مجھے دوسرا موقع دے گی‘۔

’میں نے سال دو ہزار دس میں جو کیا وہ خوفناک اور غلط تھا میں نے اس کی قمیت بھی ادا کی، میری ساکھ ختم ہو گئی، ملک کو نقصان ہوا اور خاندان کو دکھ پہنچا‘۔

محمد عامر کے بقول’مجھے سبق مل گیا ہے اور میں وہ کھیل نہ کھیلنے پر مایوسی ہوں جس سے مجھے پیار ہے‘۔

محمد عامر پر آئی سی سی کی طرف سے عائد کردہ پابندی کے تحت وہ اس وقت کرکٹ کے حوالے سے کسی نوعیت کی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ محمد عامر کے گزشتہ چار سال میں پابندی کے دوران رویے، آئی سی سی سے تعاون کرنے اور دیگر عوامل کو پیش نظر رکھتے ہوئے شاید انھیں پانچ سال کی مدت ختم ہونے سے پہلے ملکی سطح پر کھیلی جانے والی کرکٹ اور تربیت کی اجازت دے دیں۔

اسی بارے میں