آملہ کے بعد اب ڈیل سٹین کی شرکت بھی مشکوک

Image caption ڈیل سٹین کو تربیت کے دوران کمر میں تکلیف ہو گئی تھی

ابوظہبی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے قبل جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے مایہ نار بلے باز ہاشم آملہ کے جنوبی افریقہ لوٹ جانے کے بعد اب تیز رفتار بالر ڈیل سٹین کی اس ٹیسٹ میں شمولیت بھی مشکوک ہو گئی ہے۔

ہاشم آملہ جنہوں نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں سنچری سکور کی تھی اپنے دوسرے بچے کی ولادت کی وجہ سے جنوبی افریقہ چلے گئے ہیں۔ سٹین کو کمر میں تکلیف ہے جس وجہ سے ان کی دوسرے ٹیسٹ میں شمولیت مشکوک ہے۔

جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے کپتان اے بی ڈی ویلیئرز نے دوسری ٹیسٹ سے قبل ایک انٹرویو میں اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سٹین کی تکلیف اگلے دو دن میں دور ہو جائے گی اور وہ اگلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کریں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ڈی ویلئیرز کے حوالے سے کہا کہ ڈیل سٹین کو اتوار کو تربیت کے دوران کمر میں تکلیف ہو گئی تھی۔ ڈی ویلئیرز نے کہا کہ ان کی ٹیم ان کی نگہداشت کر رہی ہے اور امید ہے کہ وہ ٹسیٹ سے قبل مکمل طور پر فٹ ہو جائیں گے۔

ڈی ویلئیرز نے کہا کہ وہ دوسرے ٹیسٹ میں ان تمام وجوہات کو دور کر لیں گے جو پہلے میچ میں ان کی ٹیم کے لیے شکست کا باعث بنیں۔

ابوظہبی میں پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کو سات وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جو ان کی ٹیم کی ٹیسٹ میچوں میں دو سال بعد پہلی مرتبہ شکست تھی۔

2007 میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد پاکستانی ٹیم ابوظہبی میں غیر ملکی ٹیموں کی میزبانی کر رہی ہے۔

پاکستان نے ابوظہبی میں 2009 کے بعد سے اب تک کوئی ٹیسٹ نہیں ہارا۔

ڈی ویلیئرز نے پہلے ٹیسٹ میں ہار پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کی ٹیم مایوسی سے نکل کر اگلے میچ میں بھرپور کارکردگی دکھانے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا بلا شبہ ٹیم کو اس ہار پر مایوسی ہوئی کیونکہ ان کی ٹیم نے طویل عرصے سے اتنی بری کارکردگی نہیں دکھائی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ٹسیٹ میں ہار کا سبب بنے والی تمام خامیوں کو دور کر لیا گیا اور انہیں دوسرے ٹسیٹ میں نہیں دہہرایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے ٹیسٹ میں جیت ان کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم ابھی بھی دنیا کی اول نمبر کی ٹیم ہے۔

پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ نے پہلی اننگز میں 249 اور دوسری اننگز میں 232 رنز بنائے تھے، جب کہ پاکستان کی ٹیم نے اپنی پہلی اننگز میں 442 رنز بنائے تھے۔

جنوبی افریقہ کے کپتان نے پاکستانی بالروں اور خاص طور پر سعید اجمل کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں پاکستان بالروں نے بڑی نپی تلی بالنگ کی اور اپنی حکمتِ عملی پر قائم رہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی اعتراف کیا کہ ان کے بلے بازوں نے بعض ایسی غلطیاں کیں جو نہیں کرنی چاہیے تھیں اور انہوں نے آسانی سے اپنی وکٹیں گنوا دیں۔

مثال کے طور پر خود ڈی ویلیئرز بھی اسی طرح کی ایک غلطی کی وجہ سے آؤٹ ہو گئے تھے۔ پہلی اننگز میں وہ دفاعی شاٹ کھیل کر کریز سے باہر نکل گئے تھے، اسی دوران میں سلپ فیلڈر نے گیند کیپر عدنان اکمل کی طرف اچھال دی اور انہوں نے ان کو رن آوٹ کر دیا۔

اس میچ میں جنوبی افریقہ پاکستان نژاد سپن بالرعمران طاہر کو رابن پیٹرسن کی جگہ ٹیم میں شامل کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں