یونس خان ایک روزہ ٹیم میں نہ ہونے پر مایوس

Image caption یونس خان ایک روزہ میچوں میں چھ سنچریاں بنا چکے ہیں

تجربہ کار بیٹسمین یونس خان پاکستان کی ٹیسٹ بیٹنگ لائن میں ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ وہ ون ڈے ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔

یونس خان پیر کے روز دبئی میں پاکستانی ٹیم کے ٹریننگ سیشن کے موقع پر صحافیوں سے بات کرنے آئے تو دل کی بات کہے بغیر نہ رہ سکے کہ ون ڈے ٹیم میں مسلسل شامل نہ کیے جانے پر انہیں دھچکہ لگا ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ انہوں نے پرفارمنس دی ہو اور وہ ٹیم میں شامل نہ کیےگئے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے پر حیران ہیں حالانکہ وہ تمام فارمیٹس میں کھیلنے کے لیے دستیاب ہیں۔

یونس خان نے کہا کہ ان کی جگہ ٹیم میں آنے والا نوجوان کرکٹر اگر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ سب سے زیادہ خوش ہونے والے پہلے شخص ہوں گے۔

یونس خان نے کہا کہ ٹیم میں سینیئر کھلاڑیوں کو ضرور ہونا چاہیے تاکہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی کرسکیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ تمام ہی نوجوان کرکٹرز ٹیم میں لے آؤ کا نعرہ لگا دیا جائے، لیکن جو بھی سینیئر کرکٹر فٹ ہے اور کھیل سکتا ہے، اسے ٹیم میں ہونا چاہیے۔

یونس خان نے کہا کہ عام طور پر مستقبل کی بات کی جاتی ہے لیکن آپ کو وہ کھلاڑی ٹیم میں رکھنے ہیں جو پرفارمنس دیں اور کھیلیں ۔یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ پرفارمنس بھی نہ دیں اور انہیں آپ ساتھ ساتھ لیے پھرتے رہیں۔

یونس خان نے کہا کہ کرکٹ میں فٹنس کی بڑی اہمیت ہے۔ وہ خود کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ فٹ محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے جس دن یہ محسوس کیا کہ ان کا جسم جواب دے رہا ہے تو وہ خود ہی کرکٹ چھوڑ دیں گے، لیکن اس طرح نہیں جائیں گے کہ ڈراپ کردیے جائیں۔

یونس خان پاکستان کی طرف سے 253 ون ڈے انٹرنیشنل میں چھ سنچریوں اور 48 نصف سنچریوں کی مدد سے 7014 رنز بناچکے ہیں لیکن اس سال جنوبی افریقہ کے دورے کے بعد سے وہ ون ڈے ٹیم کا حصہ نہیں رہے ہیں۔

اسی بارے میں