عثمان خواجہ بھی ہاشم آملہ کے نقش قدم پر

Image caption ضرورت پڑی تو انعام کی رقم چھوڑ سکتا ہوں

پاکستانی نژاد آسٹریلین بلے باز عثمان خواجہ اپنے ہم مذہب فواد احمد کی تقلید کرتے ہوئے شراب بنانے والی کمپنی کے لوگو یا نشان والی وردی پہننے سے انکار کرنے پر غور کر رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے آسٹریلین کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانا ان کی پہلی ترجیح ہے۔

عثمان خواجہ آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے والے پہلے مسلمان کھلاڑی ہیں۔ آسٹریلیا کے اخبار سڈنی مارنگ ہیرالڈ کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں غور کرتے رہے ہیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ آسٹریلین کرکٹ ٹیم کی سپانسر شراب بنانے والی کمپنی کے لوگو کے بغیر والی وردی پہنیں۔

آسٹریلین کرکٹ ٹیم میں حال ہی شامل ہونے والے ایک اور پاکستانی نژاد مسلمان کھلاڑی فواد احمد کی طرف سے اس قسم کے فیصلہ پر انہوں نے کہا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ فواد احمد نے یہ فیصلہ کیوں کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ یہ کہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں سوچا تو وہ جھوٹ کہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے خلاف ایشز سیریز کے دوران انہوں نے ایسا کرنے کے بارے میں سوچا تھا لیکن وہ ٹیم میں اتنے طویل عرصے سے شامل نہیں ہیں کہ وہ اس بارے میں فکر مند ہوں۔

چھبیس سالہ کھلاڑی خواجہ اس سال انگلینڈ کے خلاف ایشز سیریز میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے اور ٹسیٹ ٹیم کے اضافی کھلاڑیوں میں شامل رہے۔

Image caption فواد احمد نے بھی شراب کی مشہوری سے انکار کیا

لیگ سپن بالنگ کرنے والے فواد احمدکو شراب بنانے والی کمپنی وی بی کا لوگو پہننے سے استثنیٰ دے دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شراب بنانے والی کمپنی کا لوگو پہننا ان کے مذہبی عقائد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس کے بعد ان پر تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا تھا اور ناقدین کا کہنا تھا کہ انھیں شراب بنانے والی کمپنیوں کی طرف سے فراہم کردہ انعامات کی رقم لینے سے بھی انکار کر دینا چاہیے۔

عثمان خواجہ نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر جنوبی افریقہ کے بلے باز ہاشم آملہ سے بھی بات کی تھی جنہیں جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ نے شراب بنانے والے کمپنی کے لوگو والی وردی پہننے سے استثنیٰ دے دیا ہے۔

خواجہ نے کہا کہ ہاشم آملہ نے انھیں بتایا کہ وہ شراب بنانے والی کمپنیوں کی طرف سے فراہم کردہ انعامات کی رقوم بھی قبول نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا اگر انہوں نے کبھی یہ فیصلہ کیا تو وہ یہ ہی راستہ اختیار کریں گے لیکن فی الحال کرکٹ ان کے لیے سب کچھ ہے۔

خواجہ نے کہا کہ کارلٹن اور یونائیٹڈ برورریز جو وی بی بیئر بناتے ہیں آسٹریلیا میں کرکٹ کو سپانسر کرنے والی بہت بڑی کمپنی ہے لہذا اس بارے میں کچھ لے اور کچھ دے کی بنیاد پر ہی کوئی حل نکالا جائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو وہ انعام کی رقم چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے بلے باز عثمان خواجہ نے گزشتہ منگل کو سڈنی تھنڈر کے ساتھ اگلے دو برس تک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلنے کا معاہدہ کیا۔ اس ٹیم میں آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے کپتان مائیلکل کلارک، ڈیوڈ وارنر اور مائیک ہسی بھی کھیلتے ہیں۔

اسی بارے میں