جنوبی افریقہ کے جوابی وار کے لیے تیار ہیں، مصباح

Image caption مصباح الحق پاکستان کرکٹ ٹیم کے کامیاب کپتانوں میں سے ایک ہیں

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دوسرا اور آخری کرکٹ ٹیسٹ بدھ سے دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہورہا ہے۔

پاکستان نے ابوظہبی میں پہلا ٹیسٹ سات وکٹوں سے جیتا تھا۔ عالمی نمبر ایک ٹیم کے خلاف اس جیت کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹے سے چوتھے نمبر پر آگئی ہے تاہم جنوبی افریقی ٹیم پلٹ کر حملہ کرکے حساب بے باق کرنے میں شہرت رکھتی ہے۔

سنہ انیس سو اٹھانوے میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کے خلاف ڈربن میں دوسرا ٹیسٹ انتیس رنز سے ہارنے کے بعد پورٹ الزبتھ میں تیسرا ٹیسٹ دوسو انسٹھ رنز سے جیتا تھا۔

2007 ء میں پاکستان نے دوسرا ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کردی تھی لیکن تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ نےسات وکٹوں کی جیت سے سیریز اپنے نام کرلی تھی۔

مصباح الحق کو بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہے اور وہ کہتے ہیں کہ جنوبی افریقی ٹیم یقیناً پہلے ٹیسٹ کی غلطیوں کو دور کرتے ہوئے یہ میچ جیتنے کی سرتوڑ کوشش کرے گی۔ پاکستانی ٹیم کے لیے یہ ٹیسٹ میچ بہت سخت رہے گا اور تمام کھلاڑیوں کو ابوظہبی کی طرح اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

جنوبی افریقہ کو دبئی ٹیسٹ میں عالمی نمبر ایک بیٹسمین ہاشم آملا کی خدمات حاصل نہیں ہونگی جو بچے کی ولادت کے سلسلے میں وطن واپس چلے گئے ہیں۔

عالمی نمبر ایک بولر ڈیل اسٹین کی شرکت بھی یقینی نہیں۔ وہ ہمسٹرنگ کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ورلڈ کلاس کرکٹرز ہیں لیکن ان کے بغیر بھی جنوبی افریقہ ایک خطرناک ٹیم ہے۔

پاکستانی ٹیم ابوظہبی کی طرح دبئی میں بھی کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچز میں ناقابل شکست رہی ہے۔

سنہ دو ہزار دس میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ ڈرا ہوا تھا جس کے بعد اس نے2011 ء میں سری لنکا کو نو وکٹوں سے ہرایا اور گزشتہ سال اسوقت کی عالمی نمبر ایک ٹیم انگلینڈ کو دو ٹیسٹ میچز میں دس وکٹ اور اکہتر رنز سے شکست دی۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ دبئی میں پاکستانی ٹیم کا ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے اور ٹیم کا عام طور پر کمزور شعبہ بیٹنگ بھی دبئی میں کامیاب رہا ہے اور بیٹسمینوں نے اس میدان میں کئی اچھی اننگز کھیلی ہیں۔

مصباح الحق کا اپنے اوپر کی جانے والی تنقید کے بارے میں کہنا ہے کہ پندرہ بیس سال کی کرکٹ کھیلنے کے بعد انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ وہ کیا صحیح کررہے ہیں اور کیا غلط۔ جہانتک سابق کرکٹرز کا تعلق ہے بیشتر سابق عظیم کھلاڑیوں نے ان کی تعریف ہی کی ہے ۔صرف چند لوگ ہی ہیں جن کا پاکستانی کرکٹ میں کوئی عمل دخل نہیں ہے وہ تنقید کرتے رہتے ہیں لیکن وہ ان کی پروا نہیں کرتے کیونکہ وہ کرکٹ پر ہی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور اگر وہ ان سب کی سنتے رہتے تو دو ہزار ایک میں ہی ان کا کریئر ختم ہوچکا ہوتا۔

اسی بارے میں