عمران طاہر سے اردو میں سوال جواب نہیں

دبئی ٹیسٹ کے پہلے دن جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد کرکٹر عمران طاہر نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

کھیل کے اختتام پر وہ پریس کانفرنس میں آئے تو اس موقع پر جنوبی افریقی ٹیم کی خاتون میڈیا افسر نے صحافیوں پر یہ بات واضح کردی کہ عمران طاہر پریس کانفرنس میں اردو میں کسی سوال کا جواب نہیں دینگے وہ صرف انگریزی میں سوالوں کے جواب دیں گے کیونکہ وہ جنوبی افریقی کرکٹر ہیں۔

پریس کانفرنس میں موجود متعدد پاکستانی صحافیوں کے لیے یہ صورتحال حیران کن تھی جو عمران طاہر کی اردو میں گفتگو اپنے سامعین یا ناظرین تک پہنچانا چاہتے تھے ۔

انہیں عمران طاہر سے اردو میں بات کرنے کی اجازت نہ ہونے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آئی کیونکہ ایسا صرف وہ ٹیمیں کرتی ہیں جو یا تو اپنی قومی زبان میں بات کرنے کو ترجیح دیتی ہیں یا پھران کے کرکٹرز کو انگریزی میں بات کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ عمران طاہر کے معاملے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔

گزشتہ سال شارجہ میں پاکستان کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل کے موقع پر بھی افغانستان کی ٹیم کے منیجر نے میڈیا پر واضح کردیا تھا کہ ان کی ٹیم کے وہ کھلاڑی جو اردو بولتے ہیں اردو میں انٹرویو نہیں دینگے۔

اس کے برعکس گزشتہ عالمی کپ کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے کینیڈا ہالینڈ اور اسکاٹ لینڈ کی ٹیموں میں شامل پاکستانی نژاد کرکٹرز کے انٹرویوز اردو میں کیے تھے اور کسی بھی ٹیم کی انتظامیہ نے انہیں ایسا کرنے سے نہیں روکا تھا۔

زمبابوے کی موجودہ ٹیم میں پاکستان میں پیدا ہونے والے کرکٹر سکندر رضا شامل ہیں جو پاکستان کے خلاف سیریز کے دوران میڈیا سے اردو میں بات کرتے رہے ہیں۔

عمران طاہر کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ یہاں کافی عرصے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کے بعد پہلے انگلینڈ گئے اور پھر وہاں سے جنوبی افریقہ جابسے تھے۔

اسی بارے میں