بھارت آسٹریلیا چوتھا ایک روزہ میچ بارش کے سبب نامکمل

رانچی میں بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والا چوتھا ایک روزہ میچ بارش کے سبب مکمل نہیں ہو سکا۔

اس میچ میں آسٹریلیا نے بھارت کو جیت کے لیے 296 رنز کا ہدف دیا ہوا ہے۔

اس ہدف کے جواب میں بھارت نے 4.1 ایک اووروں میں بغیر کسی نقصان کے 27 رنز بنائے، تاہم اس کے بعد بارش کے بعد میچ روکنا پڑا، جو تاحال رکا ہوا ہے۔

میچ کے آغاز میں بھارت نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو بیٹنگ کرنے کی دعوت دی۔ آسٹریلیا کی ٹیم نے مقررہ پچاس اوروں میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 295 رنز بنائے۔ آسٹریلوی کپتان جارج بیلی اورگلین میکسویل نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ جارج بیلی 98 اور گلین میکسویل 92 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

آسٹریلیا کو سات میچوں کی سیریز میں دو ایک کی برتری حاصل ہے۔

انڈیا کی طرف سے محمد شامی نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور تین وکٹیں حاصل کیں۔

آسٹریلیا کا آغاز اچھا نہ تھا اور صرف پانچ رنز کے مجموعی سکور پر فنچ محمد شامی کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

موہالی میں کھیلے گئے تیسرے ایک روزہ میچ میں بھارتی بولنگ، بطور خاص تیز گیند بازی، کسی کلب کی سطح کی نظر آئی تھی۔ کئی لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ گوتم گمبھیر، وریندر سہواگ اور ظہیر خان جیسے سینیئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں کو ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ سے باہر رکھنے کا حوصلہ دکھانے والی سلیکشن کمیٹی کس بنیاد پر باقی میچوں کے لیے ٹیم کا انتخاب کر رہی ہے؟

بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی بھی واضح لفظوں میں یہ کہہ چکے ہیں کہ بھارتی بالنگ آخری اووروں میں بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے اور کوئی بھی بالر ياركر پھینکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

اس بیان کے بعد یہاں یہ سوال سر ابھارتا ہے اگر ایشانت شرما اور آر ونے کمار کی بالنگ پر انھیں اعتماد نہیں ہے تو پھر انھیں کس بنیاد پر مسلسل کھلایا جا رہا ہے؟

اسی بارے میں