کیا بھارتی فارمولا ون فائدے کا سودا ہے؟

فارمولا ون ریس کو بھارت لانے میں تقریباً ڈھائی ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔

اگرچہ اس ریس میں دنیا کے بہترین ڈرائیور حصہ لیتے آئے ہیں لیکن اب یہ سوال تواتر سے پوچھا جانے لگا ہے کہ کیا اس ریس کے اقتصادی فوائد واقعی اتنے ہیں کہ کمپنیاں اس میں سرمایہ کاری کریں۔

بھارت میں فارمولا ون ریس صرف تین سال پرانی ہے اور اس کا معاہدہ ختم ہونے میں دو سال باقی ہیں لیکن بھارتی گراں پری کا مستقبل ابھی سے غیر یقینی لگ رہا ہے۔

اس ریس کو دیکھنے کے لیے ہر سال ہزاروں لوگ بودھ فارمولا ون سرکٹ تک آتے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ ٹی وی پر اسے دیکھتے ہیں۔

ریس کے دن عالمی ڈرائیور اور بالی وڈ کی اداکارائیں اس سے متعلق پروگراموں میں چھائی رہتی ہیں لیکن کیا یہ ریس فائدے کا سودا ہے؟ اس سال اس ریس پر یہ سب سے بڑا سوال یہی ہے۔

بھارت میں فارمولا ون ریسنگ کی شروعات دو سال پہلے ہوئی تھی لیکن میكلرین کے ڈرائیور سرگيو پیریز کے خیال میں یہ ریس اب تک بھارت کے عوام کے دل و دماغ پر نہیں چھائی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ بھارت میں اگلے سال یہ ریس نہیں ہوگی۔

وہ کہتے ہیں، ’مجھے لگتا ہے کہ فارمولا ون یہاں زیادہ مقبول نہیں ہے لیکن میڈیا اور شائقین میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بھارت فارمولا ون کے لیے بہت بڑا بازار ہے اور ہمیں یہاں واپسی کا ہدف رکھنا چاہیے۔‘

فارمولا ون کے سربراہ برنی ایكلسٹن نے اس سال کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ فارمولا ون ریس کیلینڈر میں بہتری کے لیے بھارت میں 2014 میں ہونے والی گراں پری کو شیڈول سے حذف کرنا پڑے گا۔

دلی سے متصل گریٹر نوئیڈا میں فارمولا ون سرکٹ کی مالک جے پی سپورٹس انٹرنیشنل لمیٹڈ کے سربراہ سمیر گوڑ نے کہا ’وہ چاہتے تھے کہ ریس مارچ میں ہو لیکن یہ عملاً ممکن نہیں ہے کہ ایک ریس ابھی ہو اور ایک مارچ میں ہو لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم 2015 میں واپسی کریں گے۔‘

Image caption بودھ انٹرنیشنل سرکٹ دنیا میں فارمولا ون ریس کے ان گنے چنے ٹریکس میں سے ہے جنہیں سرکاری مدد نہیں ملتی

اگرچہ بھارت میں موٹر سپورٹس صنعت کئی وجوہات سے اس دعوے پر شک کر رہی ہے اور ان میں سب سے اہم اترپردیش حکومت کی غیر دوستانہ پالیسیاں ہیں۔

اتر پردیش کی حکومت نے فارمولا ون کو ایک کھیل ماننے سے انکار کرتے ہوئے تفریح قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ منتظمین کو ریس سے وابستہ ہر چیز پر ٹیکس دینا ہوں گا اور ریس کے شائقین کو بھی ٹکٹ پر تفریحی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

ریس کے آرگنائزر بڑھتے اخراجات اور کم آمدنی کی وجہ سے پہلے ہی جدوجہد کر رہے ہیں۔

گزشتہ دو سالوں میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں 40 فیصد کمی آئی ہے اور اگست میں روپیہ ڈالر کے مقابلے سب سے نچلی سطح پر پہنچ گیا تھا۔

گریٹر نوئیڈا کا بودھ انٹرنیشنل سرکٹ دنیا میں فارمولا ون ریس کے ان گنے چنے ٹریکس میں سے ہے جنہیں سرکاری مدد نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بنانے والی کمپنی، جے پی گروپ، کے لیے یہ سرمایہ کاری سستا سودا ثابت نہیں ہوئی۔

ابتدائی سرمایہ کاری اور اسے چلانے کے اخراجات کے علاوہ انہیں فارمولا ون مینجمنٹ کو ہر سال 4 کروڑ ڈالر بطور لائسنس فیس دینے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹی وی نشریات کے حقوق اور ٹریک پر اشتہارات سے ہونے والی آمدنی بھی براہ راست ایف ون مینجمنٹ کو ملتی ہے.

یہی وجہ ہے کہ ریس کے منتظمین کو آمدنی کے لیے ٹکٹوں کی فروخت پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ یہاں ہوئی پہلی ریس دیکھنے کے لیے 95 ہزار لوگ آئے تھے لیکن گزشتہ سال یہ تعداد کم ہو کر 65 ہزار رہ گئی۔ مانا جا رہا ہے کہ اس سال یہ تعداد اور کم ہو گی۔

بھارتی فارمولا ون ڈرائیور كرن چنڈھوك کے خیال میں اگر حکومت اس میں شامل نہیں ہو سکتی تو نہ ہو مگر اسے اس کی راہ میں رکاوٹیں بھی کھڑی نہیں کرنی چاہییں۔

وہ کہتے ہیں ’گزشتہ ہفتے ہی دنیا بھر کے کم سے کم 50 ٹیموں، انجینئرز اور میڈیا کے نمائندوں نے مجھے فون کر کے کہا کہ وہ لندن میں رکے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں ریس میں آنے کے لیے ویزا نہیں ملا۔‘

بھارت میں اشتہار دینے والوں پر کرکٹ کا جنون سوار رہتا ہے لیکن گزشتہ سال بھارت کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی بھارتی ایئر ٹیل نے گراں پری کو سپانسر کرنے کے لیے ایک کرکٹ سیریز سے نام واپس لے لیا تھا۔

ایسے میں بھارت میں موٹر سپورٹس پر سوالیہ نشان کیوں ہے؟ کئی کمپنیوں کو کھیل میں سرمایہ کاری پر مشورہ دینے والے امیج گرو دلیپ چیرین کا کہنا ہے کہ فارمولا ون کے لیے بھارت میں رہنا اچھا ہوگا۔

اگرچہ وہ بھی مانتے ہیں کہ اخراجات بڑھے ہیں اور دنیا کے بڑے بازار اقتصادی زوال سے دو چار ہیں۔

فارمولا ون کے کیلینڈر میں اگلے سال پہلے ہی 22 ریسیں ہیں اور یہ سب سے طویل چلنے والا سیزن ہو گا۔

لیکن کرن چڈھوك کے خیال میں فارمولا ون کو اکثر ایک کھیل سے کچھ بڑا سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اس کی مدد سے بھارتی کمپنیوں کو بین الاقوامی مارکیٹ میں پاؤں جمانے میں اور بین الاقوامی کمپنیوں کو بھارت آنے میں مدد ملے گی۔

اس لیے بہت سے لوگ امید کر رہے ہیں کہ اگلے سال ریس کا انعقاد نہ ہونے کے باوجود فارمولا ون پھر ٹریک پر واپس لوٹ آئے گی۔

اسی بارے میں