بورڈ کی محمد عامر میں دلچسپی کی وجہ؟

Image caption محمد عامر نے سپاٹ فکسنگ کا اعتراف کرنے کے بعد آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ سے مکمل تعاون کیا ہے، پی سی بی

پاکستان کے فاسٹ بالر محمد عامر کی سزا میں نرمی اور کرکٹ میں ان کی جلد واپسی کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی غیرمعمولی دلچسپی لے رہا ہے۔

محمد عامر کو سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی پاداش میں پانچ سالہ پابندی کا سامنا ہے جو عام حالات میں سنہ 2015 میں ختم ہوگی لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ چاہتا ہے کہ آئی سی سی ان کی سزا میں نرمی کردے تاکہ وہ پاکستان میں کھیلنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ٹریننگ کی سہولتوں سےفائدہ اٹھاسکیں تاکہ جب ان پر پابندی ختم ہو تو وہ بین الاقوامی کرکٹ کے لیے تیار ہوں۔

اپنی غلطی کو ٹھیک کرنا چاہتا ہوں: عامر

آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر واضح کردیا ہے کہ جنوری میں اینٹی کرپشن کے قواعد وضوابط میں ردوبدل کے بعد ہی محمد عامر پر پابندی کے بارے میں غور ہوگا۔ اس معاملےکا جائزہ لینے کے لیے آئی سی سی نے پہلے ہی جائلز کلارک کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے۔

محمد عامر کے لیے کی جانےوالی ان کوششوں کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ محمد عامر کا معاملہ دیگر دو کرکٹروں سلمان بٹ اور محمد آصف سے یکسر مختلف ہے۔ محمد عامر نے سپاٹ فکسنگ کا اعتراف کرنے کے بعد آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ سے مکمل تعاون کیا ہے اور اس پورے معاملے میں سب سے اہم چیز جو ان کے حق میں جاتی ہے وہ ان کی عمر ہے۔

محمد عامر کے لیے برطانوی قانون دان کی خدمات حاصل کرنے کے بارے میں تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کسی سزایافتہ کرکٹر کو قانونی مدد فراہم کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کسی بھی ایسے کرکٹر کو قانونی مدد فراہم نہیں کرسکتا جو کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہا ہو لیکن محمد عامر کا معاملہ اس لیے مختلف ہے کہ وہ آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے بحالی پروگرام سے گزر رہے ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ میں ان کی واپسی کے قانونی راستے تلاش کرنے کے لیے برطانوی قانون دان کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اعجاز بٹ کو یقین نہیں کہ محمد عامر پابندی کی مدت ختم ہونے سے قبل کرکٹ میں واپس آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے طور پربہت کوششیں کر کے دیکھ لیں تاہم آئی سی سی کے قواعد وضوابط اس کی اجازت نہیں دیتے۔

اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے آئی سی سی ٹریبونل کے جج سے بھی بات کی تھی جن کا اس وقت بھی یہی کہنا تھا کہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن قوانین میں ردوبدل کے بعد ہی کچھ ہوسکتا ہے کیونکہ انھوں نے محمد عامر کو انھی قوانین کے تحت کم از کم سزا دی ہے۔

ملک و قوم کی بدنامی کا سبب بننے والے کرکٹر کیا دوبارہ ملک کی نمائندگی کے قابل ہیں؟ سابق کرکٹر رمیز راجہ کا اس بارے میں کہنا ہےکہ ایک طرف یہ دلیل ہے کہ کیا غلطی کا ارتکاب کرنے والے ایک 18 سالہ لڑکے کو سزا مکمل ہونے کے بعد اچھی مثال بناکر دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری طرف یہ نکتہ بھی ہے کہ اگر کوئی اپنےادارے میں چوری کرتا ہے تو کیا دوبارہ وہ ادارہ اس شخص کو نوکری دے گا؟ یقیناً نہیں دے گا۔

رمیز راجہ کے خیال میں پاکستانی کرکٹ کو محمد عامر کے ٹیلنٹ کی ضرورت ہے اور وہ اس ضمن میں ویسٹ انڈین مارلن سمیولز کی مثال دیتے ہیں کہ اگر وہ سزا پوری کرکے کرکٹ میں واپس آ سکتے ہیں تو پھر محمد عامر کو بھی ایک موقع ملنا چاہیے۔

اسی بارے میں