کوہلی: انڈیا کی ’رنز مشین‘ اگلے سچن؟

Image caption کرکٹ پنڈتوں کا خیال ہے کہ دہلی کا یہ نوجوان بلے باز اگر اسی طرح کھیلتا رہا تو سچن کے کئی ریکارڈ توڑ سکتا ہے

ماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر اگلے ماہ کرکٹ کو پوری طرح الوداع کہنے والے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ بھارتی ٹیم میں ان کی تلافی کرنا کسی بھی کھلاڑی کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

لیکن جہاں تک ایک روزہ کرکٹ کا تعلق ہے تو بھارت کو کوہلی میں ایک ایسا روشن ستارہ مل گیا ہے جسے تجزیہ کار مستقبل کا سچن کہنے لگے ہیں۔

کرکٹ پنڈتوں کا خیال ہے کہ دہلی کا یہ نوجوان بلے باز اگر اسی طرح کھیلتا رہا تو سچن کے کئی ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔ خود سچن بھی مانتے ہیں کہ کوہلی ان کی سنچریوں کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔

کوہلی نے 118 میچوں میں 52.32 کی شاندار اوسط سے 4919 رن بنائے ہیں جن میں 17 سنچریاں اور 26 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ اپنے کریئر کے ابتدا ہی میں کوہلی کئی ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔

انڈیا کی رنز مشین کوہلی نے جن 17 میچوں میں سنچریاں بنائی ہیں ان میں سے 16 میچوں میں بھارت نے کامیابی حاصل کی ہے۔ کوہلی نے 11 سنچریاں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے بنائی ہیں۔

آسٹریلیا کے خلاف جاری سیریز میں بھارت نے دو بار 350 سے زیادہ رنز کا ہدف حاصل کیا ہے اور دونوں بار کوہلی نے سنچری بنائی ہے۔

بھارت نے چھ بار 300 سے زیادہ رنز کا ہدف حاصل کیا ہے جن میں سے پانچ میں کوہلی نے سنچری کی ہے۔

لٹل ماسٹر کے نام سے مشہور سنیل گواسکر کا کہنا ہے ’کوہلی شاندار کھلاڑی ہیں۔ اگر آپ 115 میچوں کے بعد سچن اور کوہلی کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو کوہلی سچن سے کہیں آگے ہیں۔‘

سچن کو پہلی سنچری بنانے کے لیے 80 میچوں تک انتظار کرنا پڑا تھا وہیں کوہلی نے 14ویں ون ڈے میں ہی یہ کمال کردیا۔ کوہلی نے ناگپور ون ڈے میں ناٹ آؤٹ 115 رن بنانے کے ساتھ ہی مسلسل تیسری بار ایک ہی سیریز میں 1000 رنز بھی پورے کر لیے۔

گواسکر کا کہنا ہے ’کوہلی کو ابتدائی سالوں میں سچن، وریندر سہواگ، راہل ڈراوڈ اور وی وی ایس لکشمن جیسے بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا اور یہ تجربہ ان کی کرکٹ کی سمجھ کو بڑھانے میں کام آیا ہے۔ وہ حالات کو سمجھتے ہیں اور مخالف ٹیم کی حکمت عملی بھی سمجھ لیتے ہیں۔‘

جہاں تک اعداد و شمار کا سوال ہے تو کوہلی سب سے جلد 15 سنچریاں بنانے والے بین الاقوامی بلے باز ہیں اور سب سے تیزی سے 4000 رن بنانے والے ہندوستانی بلے باز ہیں۔

بھارت کو انڈر 19 ورلڈ کپ میں جیت دلوانے والے کوہلی کو ویسٹ انڈیز کے ویوین رچرڈز کے سب سے تیز 5000 رن بنانے کا ریکارڈ توڑنے کے لیے اگلے ون ڈے میں صرف 81 رن کی ضرورت ہے۔

سچن جب 25 سال کے ہوئے تو ان کے اکاؤنٹ میں 15 ون ڈے سنچریاں تھیں جبکہ اگلے ہفتے 25 سال کے ہونے والے کوہلی 17 ون ڈے سنچریاں بنا چکے ہیں۔ ٹیم انڈیا نے جن میچوں میں ہدف کا کامیاب تعاقب کیا ہے ان میں کوہلی کی اوسط 86.53 رہی ہے۔

سنیل گواسکر کا کہنا ہے ’ریکارڈ ٹوٹنے کے لیے ہی بنتے ہیں۔ لیکن سچن کے کچھ ریکارڈ توڑنا آسان نہیں ہیں۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ کوئی 200 ٹیسٹ کھیل سکے گا یا 51 ٹیسٹ سنچریاں بنا سکے گا۔ لیکن کوہلی جس طرح سے کھیل رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ سچن کے 49 ون ڈے سنچریوں کا ریکارڈ خطرے میں ہے۔‘

آسٹریلیا کے سابق بلے باز ڈین جونز کا بھی کہنا ہے کہ کوہلی سچن کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ ’کوہلی جس طرح سے کھیل رہے ہیں، اس سے مجھے لگتا ہے کہ وہ سچن سے آگے نکل جائیں گے۔‘

کرکٹ میں بھگوان کا درجہ رکھنے والے سچن کے کئی ریکارڈ ہیں اور ان تک پہنچنا کسی بھی بلے باز کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ لیکن کوہلی جس طرح سے کھیل رہے ہیں اس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سچن کے راستے پر جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں