’میں خود پریشان ہوں کہ یہ کیا خرابی ہوئی‘

Image caption بلے بازوں کا غیرذمہ دارانہ کھیل شکست کی بنیادی وجہ ہے: مصباح

ایک کے بعد ایک بلے باز کی کریز سے منہ لٹکائے واپسی نے پاکستانی ٹیم کے ڈریسنگ روم کا ماحول ہی بدل دیا تھا۔

کپتان مصباح الحق پر اس صورت حال کا سب سے زیادہ اثر ہوا جو آخری وکٹ گرنے کا منظر دیکھنے کے بجائے ڈریسنگ روم کے پچھلے حصے میں بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔

مصباح الحق سے میچ کے اگلے دن میری بات ہوئی تو ان کے لہجے میں بہت مایوسی تھی۔ میرے پوچھنے پر انھوں نے صرف یہی کہا: ’یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن تکلیف دہ ضرور ہے۔ پاکستانی ٹیم نے اس سے پہلے بھی جیتے ہوئے کئی میچ اسی انداز میں ہارے ہیں۔‘

پاکستانی بلے باز پھر ناکام، ایک رن سے شکست

مصباح الحق کو شارجہ کی اس شکست نے اسی سال بھارت کے خلاف دہلی کے ون ڈے کی ہار یاد دلا دی جس میں پاکستان کو میچ جیت کر تین صفر سے کلین سویپ کرنے کے لیے صرف 168 رنز بنانے تھے لیکن ان کے آؤٹ ہونے کے بعد چھ وکٹیں سکور میں صرف 45 رنز کا اضافہ کر سکی تھیں اور پاکستان دس رنز سے یہ میچ ہارگیا تھا۔

اس تازہ ترین شکست کے بعد مصباح الحق کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ یہ کیوں اور کیسے ہوا تو ان کا برجستہ جواب تھا: ’میں خود پریشان ہوں یہ کیا خرابی ہوئی۔‘

ان کی ناراضگی ان کے اس جملے سے بھی عیاں تھی کہ آخری کے پانچ چھ بلے بازوں کو آخر کتنے رنز چاہییں جو وہ سکور کر سکیں؟

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ بلے بازوں کا غیرذمہ دارانہ کھیل اور مشکل صورت حال کو نہ سمجھنا شکست کی بنیادی وجوہات ہیں۔

دبئی ٹیسٹ کے بعد شارجہ کے ون ڈے میں بھی جس طرح عمران طاہر پاکستانی بلے بازوں پر حاوی رہے اس نے پاکستانی کوچنگ سٹاف کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ بقیہ میچوں میں جنوبی افریقی لیگ سپنر کو کس طرح غیرموثر کیا جائے۔

مصباح الحق کا اس بارے میں کہنا ہے کہ عمران طاہر کی فلِپر اور گگلی لوئر آرڈر بیٹنگ کی سمجھ میں نہیں آئیں اس لیے اگلے میچوں میں بلے بازوں کو ان کی فلپر اور گگلی پر خاص توجہ دینی ہوگی۔

سیریز کا دوسرا ون ڈے جمعے کو دبئی میں کھیلا جا رہا ہے جہاں دوسرے ٹیسٹ میں 99 رنز پر آؤٹ ہوکر اننگز کی شکست کا زخم لیے پاکستانی ٹیم شارجہ آئی تھی لیکن وہ یہاں سے ایک اور زخم لیے واپس دبئی گئی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے سابق کرکٹر عامر سہیل نے سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم کی شکست کا ذمہ دار آل راؤنڈر شاہد آفریدی کو قرار دیا ہے۔

عامر سہیل کا کہنا ہے کہ شاہد آفریدی کے غیر ذمہ درانہ شاٹ نے جنوبی افریقہ کو میچ تحفے میں دے دیا۔ سابق کرکٹ کے مطابق ’ہمارے تمام بلے باز اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے تاہم شاہد آفریدی کے پاس پاکستان کے لیے میچ جیتنے کا آسان موقع تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’شاہد آفریدی نے بہت زیادہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلی ہے تاہم ان کی جانب سے ایسی شاٹ کھیلنے کی منطق میری سمجھ سے باہر ہے۔ پاکستان کو اس وقت میچ جیتنے کے لیے 40 گیندوں پر سات سے آٹھ رنز درکار تھے جب شاہد آفریدی نے غیر دمہ درانہ شاٹ کھیلا۔ انھیں اپنی ذمہ داری کی احساس کرنا چاہیے تھا‘۔

اسی بارے میں