کیا ون ڈے میں بالرز نشانے پر ہیں؟

Image caption آسٹریلیا اور بھارتی کے درمیان حالیہ ایک روز سیریز میں بلے بازوں نے بیٹنگ کے کئی ریکارڈ توڑ ڈالے

ایک زمانہ تھا جب ایک روزہ ون ڈے کرکٹ میں 50 اوورز میں 250 رنز کو اچھا سکور مانا جاتا تھا لیکن اب وقت بدل گیا ہے۔

بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلی جانے والی حالیہ سیریز میں تین سو سے زیادہ رنز کا ہدف چار بار کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا گیا۔ سپورٹس صحافی سوریش مینن نے اس بارے میں جزیہ پیش کیا۔

پہلے کسی ہدف کا تعاقب کرتے وقت جب جیت کے لیے مطلوبہ رنز کی شرح ایک اوور میں چھ رنز سے تجاوز کر جاتی تو اسے حاصل کرنا ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔

لیکن آج کل زیادہ تر میدانوں پر تین سو کی اوسط رنز سکور کیے جار رہے ہیں اور 350 کے سکور کو ہی محفوظ سکور سمجھا جاتا ہے اور جب تک مطلوبہ رن ریٹ آٹھ رنز فی اوور کے نیچے ہوتا ہے اس وقت تک کامیابی ممکن سمجھی جاتی ہے۔

تو کیا کرکٹ نے ترقی کی ہے یا پھر اس کے برعکس کچھ ہوا ہے؟ کیا ون ڈے کرکٹ میں بیٹنگ اتنی اچھی ہوتی جا رہی ہے کہ ون ڈے کے لیے ہی خطرہ بن گئی ہے؟ کیا کھیل کے اصول بنانے والوں نے اس فارمیٹ کو ختم کرنے کا بیج بو دیا ہے؟

اگر آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان ہونے والی سیریز میں تین بار 700 سے زیادہ رنز بنائے گئے تو صرف کھیل کے قوانین پر ہی الزامات نہیں ڈالے جا سکتے۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دونوں ٹیموں کے گیند باز اوسط درجے کے ثابت ہوئے ہیں۔

بھارت کے مڈل آرڈر کو دو بار نیست و نابود کرنے والے مچل جانسن نے بھی دو موقعوں پر بے حد خراب گیند بازی کی۔ انھوں نے کبھی بہت زیادہ شارٹ اور کبھی بہت زیادہ تیز یا وائڈ گیندیں کیں۔

Image caption محدود اورروں کی کرکٹ اب باؤلروں کے لیے سازگار نہیں رہی لیکن سعید اجمل جیسے چند باؤلر اب بھی اپنی برتری قائم رکھے ہوئے ہیں

تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے کہ اگر چہ بھارت نے ناگپور میں آسٹریلیا کے 350 رنز کا کامیابی کے ساتھ پیچھا کر کے جیت حاصل کی تو دوسری جانب اسی دوران شارجہ میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہونے والے میچ کی دونوں اننگز کا اسکور 365 رہا۔

اس میچ میں ون ڈے کرکٹ کے قوانین نے چھکوں اور چوکوں کی برسات نہیں ہونے دی کیونکہ بازی زبردست تھی اور مقابلہ کانٹے کا تھا۔

ٹیسٹ میچ جیتنے میں اگر بالر مدد کرتے ہیں تو ون ڈے میچوں کو بلے باز جتاتے ہیں۔ کرکٹ کے ان دو فارمیٹوں میں یہی بنیادی فرق ہے۔

ون ڈے میں آغاز ہی سے پانسہ بالروں کے خلاف رہا ہے کیونکہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ ناظرین گیند کو وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں جاتے دیکھنے کی باؤنڈری کے پار جاتا دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

جب ٹی20 کرکٹ کا فارمیٹ تیار ہوا تو یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ ٹیسٹ اور ٹی 20 کرکٹ کے درمیان کا کرکٹ یعنی ون ڈے ٹیسٹ کی جانب جانے کے بجائے ٹی20 کی جانب مائل ہوگا۔

محدود اووروں کے میچ میں ٹیسٹ کرکٹ کی لے اور رفتار کی امید رکھنا غیر حقیقی امر ہے۔

حال ہی میں بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کی گیند بازوں کے غیر موثر ہونے کی شکایت کرنا نہ صرف اس لیے چونکانے والی بات ہے کہ یہ ایک بلے باز نے کہی ہے بلکہ اس لیے بھی کیونکہ ون ڈے کرکٹ اپنے وقت میں ٹی 20 ہوا کرتا تھا۔ لمبے اور اونچے شاٹ، تیز رن لینا اور اپنی ہی طرح کی مخصوص طرز اس کی خاصیت ہوا کرتی تھی۔

دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو یہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔

Image caption سچن کے زمانے میں بلے بازی میں نئی ٹیکنالوجی آئی اور اچھے بیٹ بنے

ون ڈے کرکٹ کے نئے قوانین، جن میں ہر اننگز میں دو نئی گیندوں کا استعمال اور 30 گز کے دائرے سے باہر زیادہ سے زیادہ چار فیلڈروں کو رہنے کی پابندی نے بڑے اسکور کے امکانات روشن کیے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ ٹی وی کو شکایت ہے، نہ ناظرین کو اور نہ ہی کسی سپانسرز کو۔

بھارت اور آسٹریلیا جب بنگلور میں آخری ون ڈے میچ کھیلنے اتریں تو دونوں ہی ٹیمیں دو دو میچ جیت کر برابری پر تھیں۔ ون ڈے کرکٹ سے نہ صرف نتیجے کی توقع کی جاتی ہے بلکہ یہ بھی امید کی جاتی ہے کہ نتیجہ ممکنہ طور پر دیر سے نکلے۔

گذشتہ کچھ دہائیوں میں اچھے اسکور کا بھی کامیابی سے پیچھا کرنا اس لیے ممکن ہوا ہے کیونکہ بلے بازی میں بالنگ کے مقابلے زیادہ ترقی ہوئی ہے۔

بیٹ کے معیار میں آئی بہتری کا ہی نتیجہ ہے کہ آج خراب کھیلے جانے والے شاٹ پر بھی گیند چھ رنز کے لیے باؤنڈری کے باہر چلی جاتی ہے۔ آج سویپ کرنے کے لیے پہلے سے بڑا رقبہ ہے اور مزید برآں کھلاڑی بھی پہلے سے زیادہ فٹ اور مضبوط ہیں۔

چار دہائی پہلے ون ڈے کرکٹ کے آغاز سے اب تک گیند بازی میں صرف دو ہی نئی چیزیں سامنے آئی ہیں، ’ریورس سوئنگ‘ اور’دوسرا۔‘

کئی سال پہلے جب دو گیند استعمال کرنے کی ابتدا ہوئی تھی تب اس لیے کوئی شکایت نہیں کی گئی کیونکہ اس وقت ریورس سوئنگ بھی نہیں ہوتی تھی۔

یہ سچ ہے کہ نئے ضابطہ کا بالروں کے خلاف ہیں لیکن اتنے نہیں جتنا کہ بیان کیا جا رہا ہے۔

کیا صرف ایک فیلڈر سے فرق پڑ سکتا ہے؟ جی ہاں ، وہ فرق ڈال سکتا ہے، جب آپ کے پاس نو ہی فیلڈر ہوں جن میں سے پانچ صرف دائرے کے اندر ہوں۔

Image caption ڈیل سٹین ٹیسٹ میں سب سے زیادہ پوائنٹس کے ساتھ بہترین بالر ہیں

گیند بازوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی طاقت یا بلے باز کی کمزوری میں سے کس کا انتخاب کرتے ہیں اور یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں۔

اگرچہ یہ تسلیم کرنا بھی مشکل ہے کہ اس خیال نے ہی ياركر کو ایک ہتھیار کے طور پر ختم کر دیا ہے۔

کسی بھی کھیل کی ترقی کسی ایک شعبے کی طرف سے نئی ٹیکنالوجی یا پالیسی کو تیار کرنے اور دوسرے فریق کی طرف سے اس کی کاٹ تلاش کرنے اور اس کے آگے اپنی نئی پالیسی شامل کرنے سے ہوتی ہے۔

ڈبليو جي گریس کے زمانے میں بالروں کو بیک فٹ شاٹ کا حل تلاش کرنا پڑا تو سچن کے زمانے میں اپر کٹ کا۔ بلے بازوں کو پہلے آؤٹ سوئنگ کا توڑ تلاش کرنا پڑا تو بعد میں ’دوسرا‘ کا۔ یہ کھیل کی فطری ترقی ہے۔

بعض اوقات ضابطہ کار اس جانب ہو جاتے ہیں جس کا کھیل پر غلبہ ہوتا ہے۔

اگر جلد ہی بالروں اور کپتانوں نے بلے بازوں کی نئی ٹیکنالوجی کا توڑ نہیں تلاش کیا تو پھر شاید تکنیکی کمیٹی کو ہی کچھ کرنا پڑے۔ لیکن دست بردار ہو جانا جلد بازی ہوگی۔ بالروں کے تخلیقی رد عمل کو بھی ایک موقع دیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں