حکم امتناعی، ’نجم سیٹھی سات نومبر تک چیئرمین ہیں‘

Image caption نجم سیٹھی نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ وہ عدالتی فیصلے کے باوجود کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے حکم دیا ہے کہ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی کو سات نومبر تک چیئرمین رہنے دیا جائے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق پی سی بی کے وکیل تفضل رضوی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے کہا کہ سات نومبر کی سماعت تک کے لیے نجم سیٹھی بطور چیئرمین کام کرسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے انتخابات میں قواعد و ضوابط کی پاسداری نہ کیے جانے کے معاملے کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 29 اکتوبر کو عبوری نگراں کمیٹی کو معطل کرتے ہوئے اس کے سربراہ نجم سیٹھی کو کام کرنے سے روکنے کا حکم دیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات نگراں کمیٹی کے حوالے

اس حکم نامے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی حکم عدولی پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی معطل شدہ انتظامی کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی کو توہینِ عدالت کے معاملے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا تھا۔

یہ حکم ملتان کرکٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ احمد نواز کی جانب سے درخواست پر دیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ عدالت کی حکم عدولی پر نجم سیٹھی کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے رواں برس مئی میں ذکاء اشرف کو پی سی بی کے چیئرمین کا عہدہ رکھنے سے روک دیا تھا اور ان کی تقرری کو آلودہ فیصلہ قرار دیا تھا۔

اس کے بعد معروف صحافی نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا عبوری چیئرمین تعینات کیا گیا۔ تاہم عدالت نے کہا تھا کہ ان کی تقرری بطور قائم مقام نہیں بلکہ نگراں چیئرمین ہے اور انہیں بورڈ سے متعلق کوئی بڑا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں۔

عدالت نے نجم سیٹھی کو90 دن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے الیکشن کرانے کے لیے بھی کہا تھا۔

یہ مدت اٹھارہ اکتوبر کو ختم ہونی تھی تاہم اس سے پہلے ہی پندرہ اکتوبر کو پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے نجم سیٹھی کی سربراہی میں ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کا انتظام چلانے کے لیے پانچ رکنی ایڈہاک منیجمنٹ کمیٹی قائم کر دی تھی۔

اسی بارے میں