اولمپک مشعل خلائی سٹیشن پر پہنچ گئی

Image caption سنیچر کو دو روسی خلا باز مشعل لے کر خلا میں چہل قدمی کریں گے

2014 کے سرمائی اولمپکس کی مشعل لے کر خلا میں جانے والا سویز راکٹ بین الاقوامی خلائی مرکز پر پہنچ گیا ہے۔

سنیچر کو دو روسی خلا باز اس مشعل کے ساتھ خلا میں تاریخی چہل قدمی کریں گے لیکن حفاظتی تدابیر کے تحت مشعل روشن نہیں کی جائے گی۔

روس کے شہر سوچی میں سات فروری 2014 کو اولمپک مقابلوں کے شروع ہونے سے پہلے اولمپک مشعل 123 دن کے سفر کے دوران 65 ہزار کلو میٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔

جمعرات کو قزاقستان کے بیکانور خلائی مرکز سے اولمپک مشعل کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن بھیجا گیا۔

اس خلائی کیپسول میں مشعل کے ساتھ ایک روسی، ایک امریکی اور ایک جاپانی خلا باز سوار تھا اور یہ چھ گھنٹے میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر پہنچا۔

بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر موجود روسی خلا باز اولگ کوتوو نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ’یہاں پر ہمارا ہدف اس کو شاندار بنانا ہے۔‘

’ہم اپنی مشعل کی خلا میں نمائش کرنا چاہتے ہیں اور اس کام کو ہم خوبصورت طریقے سے سرانجام دیں گے، لاکھوں افراد اس نظارے کو براہ راست ٹی وی پر دیکھیں گے اور اس دوران وہ خلائی سٹیشن کو اور ہمیں وہاں کام کرتے ہوئے دیکھیں گے۔‘

اس سے پہلے سال 1996 اور سال 2000 میں اولمپک مشعل کو خلا میں لے جایا گیا لیکن اس دوران مشعل کو اٹھا کر چہل قدمی نہیں کی گئی تھی۔

سوچی کو2007 میں سرمائی اولمپکس کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

یہ روس میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پہلے اولمپک مقابلے ہیں اور یہ اب تک کے مہنگے ترین مقابلوں ہوں گے جن پر اب تک پچاس ارب ڈالر کی لاگت آ چکی ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے ماسکو میں 2014 کے سرمائی اولمپکس کی مشعل کی ریلی کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔

روس کی طرف سے ہم جنس پرستی سے متعلق معلومات دینے پر پابندی کے نئے قانون کی وجہ سے اولمپکس کی تیاری تنازعات کا شکار ہو گئی ہے۔

روسی حکام پر یہ الزامات بھی لگائے گئے ہیں کہ انھوں نے اولمپکس کی تیاری کے لیے سوچی میں تعمیراتی کام میں حصہ لینے والے غیرملکی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

اسی بارے میں