سال کے آخری ٹورنامنٹ میں جوکووچ کی جیت

Image caption جوکووچ نے اس جیت کے ساتھ مسلسل 22ویں کامیابی حاصل کی ہے

سربیا کے ٹینس سٹار نوواک جوکووچ نے دنیا کے نمبر ایک ٹینس کھلاڑی رافائل نڈال کو ہرا کر سال کے آخری اہم ٹورنامنٹ اے ٹی پی ورلڈ ٹور فانلز میں کامیابی کے ساتھ اپنے اعزاز کا دفاع کیا ہے۔

انھوں نے سپین سے تعلق رکھنے والے رفائل نڈال کو لندن میں 3-6 اور 4-6 سے شکست دی۔

اس سال امریکی اوپن کے فائنل میں نڈال سے ہارنے کے بعد جوکووچ نے اپنی کارکردگی کافی بہتر کی ہے اور یہ ان کی مسلسل بائیسویں جیت ہے۔

اس جیت کے بعد جوکووچ نے کہا: ’سب سے اچھی بات یہ رہی کہ نڈال سے کچھ بڑے مقابلے بالخصوص امریکی اوپن کے فائنل اور ومبلڈن کے فائنل میں ہارنے کے باوجود میں نے فتح حاصل کی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’گرینڈ سلیم کے بعد یہ بہترین کوالٹی کی ٹینس ہے کیونکہ ہر دوسرے دن آپ کو دنیا کے دس بڑے کھلاڑیوں سے کھلینا پڑتا ہے۔ اس سال بطور خاص پیرس برسی ٹورنامنٹ کے فوراً بعد لندن کا اے ٹی پی فائنل جیتنا بہت آسان نہیں تھا۔‘

دوسری جانب ندال نے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ شاید یہ ان کا بہترین سیزن تھا۔

Image caption گذشتہ ماہ نڈال نے جیت کے ساتھ جوکووچ سے عالمی نمبر ایک کی رینکنگ چھین لی تھی

شکست کے بعد ندال نے کہا: ’آج کی ہار سے میرے کیریئر پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہونے والا ہے۔ میں بہت مایوس نہیں ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ آج میرا دن نہیں تھا۔‘

کرکٹ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ جوکووچ نے اس جیت کے ساتھ آنے والے سال میں سخت مقابلوں کی بنیاد ڈال دی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ 19 فائنل مقابلوں میں جوکووچ نے 10 بار نڈال کو شکست دی ہے اور ستمبر میں امریکی اوپن کے بعد سے وہ مسلسل جیت حاصل کرتے آرہے ہیں۔

جوکووچ نے کہا: ’امریکی اوپن کے بعد یقینی طور پر یہ دیکھنے کی ضرورت تھی کہ مجھ سے کہاں غلطی ہو رہی ہے خاص طور نڈال کے خلاف مقابلوں میں۔ مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ گذشتہ ڈھائی مہینے کے دوران کی جانے والی محنت کا نتیجہ نظر آنے لگا ہے۔‘

اسی بارے میں