پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ واٹمور سے معاہدے کی تجدید نہیں ہوگی

Image caption ڈیو واٹمور کا معاہدہ 28 فروری 2014 کو ختم ہو رہا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ ڈیو واٹمور نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ نئے معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق واٹمور نے یہ فیصلہ گھریلو اور نجی مصروفیات کے پیش نظر کیا ہے، تاہم وہ معاہدہ مکمل ہونے تک ٹیم کے ساتھ کوچ کی ذمہ داری نبھاتے رہیں گے۔

الزام تراشی کے بجائے شکست کے اسباب پر نظر

دسمبر جنوری میں سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی سیریز واٹمور کی کوچ کی حیثیت سے آخری سیریز ہوگی۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی کےچیئرمین نجم سیٹھی نے گذشتہ دنوں دبئی میں یہ کہا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پر ملکی کوچ کی تقرری کے سلسلے میں زبردست دباؤ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستانی کرکٹرز کو غیرملکی کوچ کے ساتھ رابطے میں دشواری پیش آتی ہے اور انہیں زبان کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق نجم سیٹھی سے قبل آف سپنر سعیداجمل نے بھی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستانی کوچ اور واٹمور میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن غیر ملکی کوچ کے ساتھ کام کرنے میں زبان کا مسئلہ رہتا ہے۔

واٹمور مارچ 2012 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ مقرر کیے گئے تھے لیکن ان کے ہوتے ہوئے پاکستانی ٹیم کوئی بھی ٹیسٹ سیریز نہ جیت سکی۔اس نے دس میں سے صرف دو ٹیسٹ میچ جیتے۔

واٹمور سے قبل پاکستانی کرکٹ ٹیم رچرڈ پائی بس، باب وولمر اور جیف لاسن کی شکل میں غیرملکی کوچ کا تجربہ کر چکی ہے جن میں سے صرف باب وولمر ہی کچھ اچھے نتائج دے پائے لیکن اس میں بھی زیادہ عمل دخل انضمام الحق کی کپتانی کا رہا۔

اسی بارے میں