’سچن کے بغیر کرکٹ بڑی پھیکی پھیکی سی لگے گی‘

Image caption جمعرات کو میچ دیکھنے کے لیے پہلی بار سچن کی والدہ بھی سٹیڈیم آئیں گی

’سچن نے 24 برس تک یکسانیت کے ساتھ کرکٹ کھیلی ہے ۔ ان سے ہمیشہ اچھی کارکردگی کی توقع کی جاتی رہی اور وہ ہمیشہ ان توقعات پر پورے اترتے رہے ہیں۔ شاید ہی کسی کرکٹر نے اپنے ہم وطنوں کو اتنا کچھ دیا ہوگا۔ اب وہ کریز پر نہیں ہوں گے۔ یہ بہت جذباتی لمحہ ہے۔ سچن کو مس کریں گے۔‘

سابق کرکٹر اور سچن تندولکر کے ساتھ کھیلنے والے منندر سنگھ کے یہ جذبات سبھی کی زبان پر ہیں۔

’ایک بچہ جو ابھی بھی یاد ہے‘

سچن تندولکر کے عالمی ریکارڈ

سچن جمعرات کو ممبئی کے وانکھیڑے سٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا 200واں ٹیسٹ میچ کھیلیں گے۔ یہ ان کے طویل کریئر کا آخری میچ ہوگا۔ ان کے آخری میچ کے لیے ان کا ہوم گراؤنڈ ہی منتخب کیا گیا ہے۔ اسی گراؤنڈ پر سچن نے عالمی کپ جیتنے کا خواب پورا کیا تھا۔

سچن نے میچ سے قبل پیر اور منگل کو وانکھیڑے سٹیڈیم میں 24 برس کے معمول کے مطابق پریکٹس کی۔ جمعرات کے میچ کے لیے سارے ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں۔ ٹکٹیں اس وقت بہت منگی قیمتوں پر بلیک میں بک رہی ہیں۔ 33 ہزار شائقین کی گنجائش رکھنے والا سٹیڈیم اس یادگار میچ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

میچ دیکھنے کے لیے پہلی بار سچن کی والدہ بھی سٹیڈیم آئیں گی۔ وہاں ماسٹر بیٹسمین کے پہلے کوچ رما کانت اچریگر بھی ہوں گے جنھوں نے دس برس کے سچن کو کرکٹ سکھایا تھا۔ ان کی بیٹی اور خواتین کی کرکٹ ٹیم کی سیلیکٹر کلپنا مورکر نے بتایا کہ ان کے والد اس میچ کے بارے میں بہت پرجوش ہیں۔

’ڈیڈی کہتے ہیں ریٹائر تو ایک دن ہونا ہی ہوتا ہے لیکن اگرسچن ایک دو سال اور کھیلتے رہتے تو اچھا ہوتا۔‘

سچن ممبئی میں پیدا ہوئے اور یہی پلے بڑھے۔ وہ دنیا میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے اور سب سے زیادہ رنز سکور کرنے والے کھلاڑی ہیں۔

ممبئی شہر ملے جلے تاثرات کے ساتھ انھیں الوداع کہنے کے لیے تیار ہے۔ آخری میچ دیکھنے کے لیے سچن نے دنیا کے کئی پرانے اور نئے کرکٹروں کے ساتھ اپنے گھر والوں، فلم سٹارز اور صنعتکاروں سمیت پانچ سو لوگوں کو مدعو کیا ہے۔ ان کے لیے سٹیڈیم میں مخصوص جگہ بنائی گئی ہے۔

ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن اور بھارتی کرکٹ بورڈ نے بھی دنیا کے کرکٹ بورڈوں اور کرکٹ کھلاڑیوں کے لیے الگ انتظام کیا ہے۔

سچن تندولکر کا شمار دنیا کے چند بہترین کرکٹروں میں ہوتا ہے۔ ممبئی کی سپنا کہتی ہیں:’ سچن کو اتنے سالوں سے دیکھتے آ رہے ہیں۔ اب وہ نہیں ہوں گے تو کرکٹ بڑی پھیکی پھیکی سی لگے گی۔‘

سچن کے ایک اور فین اومکار کا کہنا ہے کہ سچن کی عمر اب ریٹائر ہونے کی ہو چکی ہے: ’لیکن انھوں نے کرکٹ کے ذریعے جو دیا ہے اس کے سبب وہ نئی نسلوں کے رول ماڈل بن گئے ہیں۔‘

وانکھیڑے سٹیڈیم میں سچن جمعرات سے ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا 200واں اور آخری ٹیسٹ میچ کھیلیں گے۔ اس میچ کے بارے میں ممبئی ہی نہیں پورے بھارت میں زبردست جوش و خروش ہے ۔ لیکن یہ احساس بھی ہے کہ یہ سچن کا آخری میچ ہو گا ۔

24 برس تک کرکٹ کھینے کے بعد سچن کا طویل کریئر اپنے اختتام کو پہنچےگا۔ سچن کے مداحوں کے لیے یہ یقیناً بہت جذباتی لمحہ ہے۔

اسی بارے میں