سی فوڈ، مٹن اور آم سچن کی کمزوری

Image caption کئی بار تو دوروں پر سنندن لیلے نے خود مزے مزے کے کھانے پکا کر سچن کو کھلائے ہیں

سچن تندولکر کو ان کی فیملی کے بعد اگر کسی نے بہت قریب سے دیکھا ہے تو وہ کرکٹ رائٹر اور صحافی سنندن لیلے ہیں۔

سنندن لیلے خود باغ و بہار شخصیت کے مالک ہیں جن کی محفل میں بیٹھ جائیں تو وقت کا احساس ہی نہیں رہتا ہے۔

ان کے ذہن میں یادوں کا خرانہ محفوظ ہے۔ میں نے لیلے سے بات کی توسچن کی زندگی کے کئی دلچسپ پہلو سامنے آتے گئے۔

دنیا ہمیشہ سچن کو ہنستے مسکراتے دیکھتی آئی ہے تو کیا کبھی انہیں غصہ بھی آتا ہے؟

لیلے کہتے ہیں: ’سچن کے غصے کی دو وجوہات ہیں۔اگر بھارتی ٹیم ہار جائے اور سچن کو یہ محسوس ہو کہ کھلاڑیوں نے دل و جان سے مقابلہ نہیں کیا تو پھر وہ میدان سے باہر آنے کے بعد اپنی تکلیف اور غصے کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ انہیں اس بات پر بھی غصہ آتا ہے جب میدان میں کوئی سلیجنگ ( فقرے کسنا ) کرتے ہوئے اخلاق کی حد پار کرجائے۔‘

سچن کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ اپنا بیٹ کبھی بھی کٹ بیگ میں نہیں رکھتے۔

لیلے کہتے ہیں کہ ’سچن جس بیٹ سے میچ کھیلتے ہیں اسے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور وہ بیٹ کٹ بیگ میں نہیں رکھ سکتے۔صرف گھر ہی نہیں بلکہ جب وہ ٹور پر ہوتے ہیں تو ہوٹل کے ان کے کمرے میں ٹیبل پر ان کے والدین کی تصویر رکھی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ بیٹ بھی موجود ہوتا ہے۔ سچن بیٹ کو ٹھیک ٹھاک رکھنے کے لیے ہمیشہ اپنے ساتھ ٹول کٹ بھی ساتھ رکھتے ہیں۔ انہیں کرکٹ بیٹ کو وزن اور گرپ کی درست حالت میں رکھنے میں اتنا ہی کمال حاصل ہے جیسے ایک ستار نواز ستار ہاتھ میں لے کر ُسروں کو پرکھ لیتا ہے۔‘

سچن تندولکر کھانے پینے کے بہت شوقین ہیں اور کئی بار تو دوروں پر سنندن لیلے نے خود مزے مزے کے کھانے پکا کر انہیں کھلائے ہیں۔

’سچن سبزی خور نہیں ہیں بلکہ وہ بڑے شوق سے سی فوڈ اور مٹن کھاتے ہیں۔ آم ان کی بڑی کمزوری ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ آم میں کتنی زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں لیکن وہ آم کھائے بغیر نہیں رہ سکتے، اس لیے وہ آم کھانے سے پہلے معمول سے زیادہ پریکٹس کرتے ہیں، پیڈ باندھ کر گراؤنڈ کے کئی چکر لگاتے ہیں۔‘

سچن کے بارے میں اس وقت سب سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کیا کریں گے؟ کیا سیاست میں آئیں گے؟

میں نے بھی سنندن لیلے سے یہی جاننا چاہا۔

’میں سچن کو جتنا جانتا ہوں یہ بات طے ہے کہ وہ سیاست میں ہرگز نہیں آئیں گے۔ انہوں نے زندگی کے 24 سال مسلسل کرکٹ کو دیے ہیں۔ انہوں نے اپنے گھر سے زیادہ وقت ڈریسنگ روم میں گزارا ہے، لہٰذا وہ اپنی فیملی کو وقت دینا چاہیں گے۔ انہیں سماجی کاموں کا جنون کی حد تک شوق ہے اور وہ یقیناً فلاحی کاموں میں زیادہ وقت گزاریں گے۔‘

اسی بارے میں