تندولکر کے لیے’دائیں‘ ہاتھ کا کھیل

سچن تندولکر اپنے کریئر کا آخری ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں اور ان کا شمار کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔

سچن تندولکر نے اپنے چوبیس سالہ کریئر میں 34,000 سے زائد رنز بنائے اور ان کی کامیابی کی ایک اہم وجہ ون ڈے اور ٹیسٹ میں ان کا مستقل مزاجی کے ساتھ رنز بنانا ہے۔

انہوں نے کسی دوسرے کرکٹر کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹیسٹ اور ون ڈے میچ کھیلے اور سب سے زیادہ رنز بنائے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے صرف ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا ہے۔

تندولکر نے 1989 میں سولہ سال کی عمر میں اپنا پہلا انٹرنیشنل میچ کھیلا اور اپنے کریئر کے دوران کئی ریکارڈ اپنے نام کیے جس میں سب سے زیادہ قابل ذکر ان کا سو سنچریاں بنانے کا ریکارڈ ہے۔ انہوں نے مارچ 2012 میں بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکہ میں 114 رنز بنا کر اپنے کریئر کی سوویں سنچری بنائی تھی۔

انٹرنیشنل کرکٹ میں آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ 71 سنچریوں کے ساتھ دوسرے نمبر ہر ہیں۔ کئی کھلاڑیوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ شاید یہ ریکارڈ کبھی نہیں ٹوٹ سکے گا۔

تندولکر نے اپنی 99 ویں سنچری جنوبی افریقہ کے خلاف بنائی تھی جس کے بعد وہ بارہ ون ڈے اور گیارہ ٹیسٹ میچوں میں کوئی سنچری نہیں بنا سکے تھے۔

اس دوران وہ نومبر 2011 میں ممبئی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنی سوویں سنچری کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن 94 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔

اس سے پہلے کے بیس میچوں کا اگر موازنہ کیا جائے تو ان میں انہوں نے سات سنچریاں بنائیں جن میں تین ون ڈے اور چار ٹیسٹ میچوں میں بنائی تھیں۔

لیکن اچھے سے اچھا بلے باز بھی آخر آؤٹ تو ہوتا ہی ہے۔

تندولکر اپنے کریئر میں 680 مرتبہ آؤٹ ہوئے جس میں ان کے کیچ آؤٹ ہونے کی شرح ساٹھ فیصد ہے۔