سچن عظیم تو ہیں، مگر انتیسویں نمبر پر؟

ممبئی میں سچن تندولکر کے اُس کیرئر کا اختتام ہو رہا ہے جس نے انہیں انڈیا میں خدا جیسا رتبہ دیا۔

لیکن دوسرے بہترین بلے بازوں کے مقابلے میں ان کی بیٹنگ کے اعداد و شمار کتنے اچھے ہیں؟ اگر ہم صرف مجموعی سکور پر نظر ڈالیں تو یہ مضمون بہت مختصر ہوگا۔

سچن رمیش تندولکر کے آخری ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز کا سکور ملایا جائے تو انہوں نے ٹیسٹ میں کل 15,921 بنائے ہیں جو کسی دوسرے کرکٹر کے مقابلے میں 2,500 رنز زیادہ ہیں۔

آئیے ان کا موازنہ ایسے چار کھلاڑیوں سے کرتے ہیں جن کا شمار گذشتہ دو دہائیوں کے بہترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ ان میں آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ، جنوبی افریقہ کے ژاک کیلس، ویسٹ انڈیز کے برائن لارا اور سری لنکا کے کمارا سنگاکارا شامل ہیں۔

تندولکر کے 15,921 رنز ہیں، جبکہ پونٹنگ نے اپنے ٹیسٹ کریئر میں 13,378، جب کہ لارا نے تقریباً 11,953 رنز بنائے ہیں۔ کیلس اور سنگاکارا نے، جو ابھی تک کھیل رہے ہیں، بالترتیب 13,140 اور 10,486 رنز بنائے ہیں۔

جہاں تندولکر کل رنز کے حوالے سے سب پر حاوی ہیں، وہیں انہوں نے سب سے زیادہ میچ بھی کھیلے ہیں۔

یہ آخری ٹیسٹ ان کا 200 واں میچ ہے جوکہ پونٹنگ سے 32 اور لارا سے 68 میچ زیادہ ہے۔ کیلس نے ان کے مقابلے پر 36 اور سنگاکارا 68 میچ پیچھے ہیں۔

تو شاید کھلاڑیوں کا آپس میں موازنہ کرنے کا شفاف طریقہ ان کی اوسط پر نظر ڈالنا ہے؟

یہاں ان کرکٹر کی بات بھی کرنی ہوگی جو دہائیوں پہلے کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ پرانے دور میں کرکٹر بہت کم میچ کھیلتے تھے، اس لیے جن کے کریئر 1950 سے پہلے ختم ہو گئے ان کا شمار ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے سرفہرست 35 بلے بازوں میں نہیں ہوتا۔

اگر آپ اوسط پر نظر ڈالیں تو سب سے اوپر آسٹریلیا کے ڈونلڈ بریڈمین ہیں جنہوں نے 1928 اور 1948 کے دوران 20 سال تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی۔

حیران کن طور پر بریڈ مین کی بیٹنگ کی اوسط اپنے کریئر کے اختتام پر 99.94 تھی۔ ان کی اس اوسط کے قریب آج تک کوئی بلے باز نہیں پہنچا۔

اگر ان بلے بازوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں جنہوں نے کم از کم 20 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں تو تندولکر اس فہرست میں 53.78 کی اوسط کے ساتھ 17 ویں نمبر پر ہیں۔

تندولکر پونٹنگ اور لارا سے ذرا آگے ہیں جوکہ بالترتیب 24ویں اور 18ویں پوزیشن پر ہیں۔ وہ کیلس (14 ویں پوزیشن، اوسط 55.44) اور سنگاکارا (دسویں پوزیشن، اوسط 56.98) سے پیچھے ہیں۔

لیکن تندولکر کے بارے میں حیران کن بات ان کی مستقل مزاجی ہے۔ وہ پچھلے 18 سال سے 50 سے زیادہ کی اوسط سے کھیل رہے ہیں۔

کسی بھی عظیم کھلاڑی کی طرح ان کی اوسط بھی ان کے کریئر کے زوال کے دنوں میں گری تھی۔ تو پھر اس سے اچھا طریقہ اور کیا ہوگا کہ کسی بھی کھلاڑی کے بہترین ہونے کا اندازہ اس کے عروج کے دنوں کے تجزیے سے لگایا جائے؟

انٹرنینشل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے کھلاڑیوں کی درجہ بندی کے ذریعے آپ ایسا کر سکتے ہیں۔ اس کی بنیاد میچ کی صورتِ حال، میچ میں رنز کی تعداد اور مخالف ٹیم کے معیار کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔ آئی سی سی نے تندولکر کو 2002 میں ان کو آج تک حاصل ہونے والی سب سے زیادہ 898 کی ریٹنگ دی تھی یہ ریٹنگ انہیں زمبابوے کے خلاف ایک ٹیسٹ کے بعد دی گئی تھی۔

لیکن یہ آئی سی سی کی جانب سے دی گئی آج تک کی 29 ویں بہترین ریٹنگ ہے۔

بریڈمین اس میں بھی 961 کی ریٹنگ یا سکور کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔ آئی سی سی کی جانب سے یہ سکور انہیں 1948 میں ان کے کریئر کے آخری دنوں میں انڈیا کے خلاف ٹیسٹ میچ کے بعد دیا گیا تھا۔ پونٹنگ، سنگاکارا، کیلس اور لارا کو آئی سی سی کی جانب سے 900 سے زیادہ کی ریٹنگ مل چکی ہے جس بارے میں آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ’یہ غیر معمولی اور عالمی معیار کی نشاندہی کرتی ہے۔‘

ان درجہ بندیوں کے مطابق تندولکر اپنے عروج کے دنوں میں بھی بعض دوسرے بلے بازوں کے مقابلے پر اتنے اثر انگیز نہیں تھے۔

لیکن وہ اپنے کریئر کے دوران پانچ مرتبہ آئی سی سی کے بلے بازوں کی درجہ بندی میں سرفہرست رہے۔ وہ پہلی مرتبہ اس درجہ بندی میں 1994 میں اور آخری مرتبہ 2010 میں سرفہرست رہے جو کہ اس 16 سال کے لمبے عرصے میں ان کی مستقل مزاجی کے ساتھ اچھی کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔

لیکن ایک بلے باز کے کریئر کو پرکھنے کے دوسرے طریقے بھی ہیں۔

Image caption آسٹریلوے بلے باز ڈونلڈ بریڈمین 1930 کے ایک میچ میں بیٹنگ کے دوران

کئی ماہرین اعداد و شمار کو فوقیت نہیں دیتے اور کھلاڑی کے ہنر، انداز اور اچھی اننگز کے دوران اس کی قوتِ ارادی کو سراہتے ہیں۔

کھلاڑیوں کی اہمیت کو پرکھنے کے لیے 2010 میں ایک اور طریقہ متعارف کروایا گیا تھا۔ اسے ’امپیکٹ انڈیکس‘ کہا جاتا ہے اور اس میں ہر کھلاڑی کی کارکردگی کا موازنہ میچ میں دوسرے کھلاڑیوں سے کیا جاتا ہے۔

اس انڈیکس کے بانی جے دیپ ورما اس کھلاڑی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس نے ان کے خیال میں گذشتہ 20 سال میں بھارتی ٹیم میں نمایاں کردار ادا کیا۔ لیکن وہ تندولکر نہیں بلکہ دراوڈ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ کم سے کم میچوں میں دراوڈ کی کسی سیریز میں فیصلہ کن کاکردگیاں (آٹھ) تندولکر (چھ) سے زیادہ ہیں۔‘

’عظیم کھلاڑی بڑے میچوں میں حاوی ہوتے ہیں جو کہ اپنے پورے کریئر میں تندولکر نے کبھی نہیں کیا۔ اپنے ملک کی ٹیسٹ کی تاریخ کو بدلنے کے تناظر میں تندولکر کے مقابلے میں راہل دراوڈ زیادہ اچھے بلے باز ہیں۔‘

لیکن توقعات کا بوجھ ایسی چیز ہے جو تندولکر کے کریئر کو کسی بھی کھلاڑی سے مختلف بناتی ہے۔

تندولکر نے 24 سال تک ایک ارب بھارتی شائقین کی ان پر ٹِکی نظروں میں رہ کر بلے بازی کی ہے۔ اور ان حالات میں کھیلتے رہنا ان کے بہترین ہونے کا کسی بھی اعداد و شمار سے بڑا عندیہ ہے۔

شین وارن نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’میدانوں کے باہر لوگ ٹکٹ خریدنے سے پہلے تندولکر کا سٹیڈیم میں داخل ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ وکٹ گر جائے (تاکہ تندولکر کریز پر آئیں) جبکہ اس سے انہیں کی ٹیم کو نقصان پہنچے گا۔ سچن نے 16 سال کی عمر سے کرکٹ کو ایسے ہی جانا ہے، وہ توقعات کے وزن تلے بڑے ہوئے ہیں لیکن کبھی بھی دباؤ میں نہیں آئے۔‘

لٹل ماسٹر ممبئی کے میدان میں آخری میچ کھیل رہے ہیں جہاں ہزاروں تصاویر اور پیار بھرے بینر ان کا استقبال کر رہے ہیں۔

لیکن ان میں سے کسی بھی بینر کی تحریر تندولکر کے حوالے سے انڈیا کے رویے کی بہتر عکاسی نہیں کر سکتی جو 2011 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں ایک بینر پر لکھی تحریر نے کی تھی جب تندولکر نے انگلینڈ کے خلاف 120 رنز سکور کیے تھے۔ اس پر لکھا تھا:

’کسی جرم کا ارتکاب کرنا ہے تو سچن کی بیٹنگ کے دوران کر لیں۔ اس کا بالکل پتہ نہیں چلے گا کیوں کہ خدا بھی میچ دیکھ رہا ہے۔‘

اسی بارے میں