شیوا جی پارک میں کرکٹر اگتے ہیں

’میں سچن کی طرح بڑا کرکٹر بننا چاہتا ہوں۔ وہ میرے ہی سکول کے تھے اور انہوں نے بھی اسی میدان پر کرکٹ کھیلنا سیکھی تھی۔‘ 12 سالہ ونے اسی جذبے کے ساتھ روزانہ ممبئی کے شیوا جی پارک میں مشق کرتے ہیں۔

ونے کی طرح صبح سے شام تک ہزاروں بچے شیوا جی پارک میں کرکٹ کی پریکٹس کرتے ہیں۔ سچن تندولکر نے بھی اسی میدان پر دس برس کی عمر میں کرکٹ کا آغاز کیا تھا۔

نریش چوری سولہ برس سے سچن کے سکول شاردا آشرم ودیا مندر میں بچوں کے کرکٹ کوچ ہیں۔ وہ میدان کے ایک کونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ سچن اس جگہ پریکٹس کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: ’سچن ہمارے سکول کے تھے اور یہیں کھیلا کرتے تھے۔ اس سے ہمارے بچوں کو ترغیب ملتی ہے۔‘

شیوا جی پارک کو ’کرکٹ کا مکہ‘ کہا جاتا ہے۔ اجیت واڈیکر، وجے مانگریکر، رما کانت دیسائی، وینگ سارکر، سندیپ پاٹل، ونود کامبلی، اجیت آگرکر اورسچن تندولکر جیسے کھلاڑیوں نے اسی میدان سے ابھر کر بین اقوامی کرکٹ میں شہرت حاصل کی۔

کرکٹ کوچ پدماکر شیوالکر کہتے ہیں: ’یہ اس مٹی کا گن ہے۔ اس میں کچھ نہ کچھ تو ضرور ہے، تبھی تو اتنے بڑے بڑے کرکٹر اس میدان سے نکلے۔‘ شیوالکر نے ماضی میں کئی بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ اس میدان پر کرکٹ کھیلی ہے۔

میدان میں جگہ جگہ چھوٹی چھوٹی کرکٹ پِچیں بنی ہوئی ہیں اور ان کے گرد نیٹ لگے ہوئے ہیں۔ اسی طرح کی ایک پچ پر کبھی سچن تندولکر نے کرکٹ کھیلنی شروع کی تھی۔ اب اس جگہ پر ان کے سکول کے بہت سے بچے کرکٹ کی مشق کر رہے ہیں۔

شیوا جی پارک صبح سے رات تک کھلا رہتا ہے اور الگ الگ گروپوں میں ہزاروں بچے روزانہ کرکٹ سیکھنے یہاں آتے ہیں۔ یہاں پرانے کرکٹروں کی بھی کئی کرکٹ اکیڈمیاں ہیں۔

سچن کے کوچ رماکانت اچریکر کی بیٹی کلپنا مورکر بھی کرکٹر رہی ہیں اور اب وہ خواتین کی قومی ٹیم کی سیلیکٹر ہیں۔ وہ یہاں بچوں کی کوچنگ کرتی ہیں: ’یہاں صرف تربیت ہی نہیں دی جاتی بلکہ سال میں کئی بار کئی سطح کے ٹورنامنٹس یہاں ہوتے ہیں جن سے بچوں کو کافی کچھ سیکھنے کو ملتا ہے جو شاید ہی کسی اور جگہ حاصل ہو۔‘

ممبئی میں کئی اور بھی میدان ہیں، جن میں آزاد میدان مشہور ہے۔ اس میدان سے دلیپ سر دیسائی، پالی امریکر، فاروق انجینئر، گنڈاپا وشوناتھ اور ناری کنٹریکٹر جیسے پرانے دنوں کے بہترین کھلاڑی وابستہ رہے ہیں۔ آج بھی وہاں ہر وقت سیکڑوں بچے کھیلتے ہوئے ملتے ہیں۔

لیکن کرکٹ کے لیے ممبئی کے شیوا جی پارک کو نمایاں حیثیت جاصل رہی ہے۔ ستر سالہ کرکٹ کوچ پدماکرشیولکر کہتے ہیں: شیواجی پارک ’کرکٹ کا مکہ‘ تھا اور یہ آنے والے دنوں میں بھی یہ بھارت کو اچھے کھلاڑی دیتا رہےگا۔

اسی بارے میں