یومیہ اجرت کے قابل یہ کرکٹرز

Image caption پاکستانی کرکٹ ٹیم کی مایوس کارکردگی کے نتیجے میں وہ جنوبی افریقہ سے دونوں ٹی ٹوئنٹی میچ ہار گئي ہے

پاکستانی کرکٹرز کی ایک کے بعد ایک شرمناک کارکردگی دیکھ کر یہ عبارت یاد آرہی ہے ’ یہاں کام کرنے والوں کو یومیہ اجرت دی جاتی ہے۔‘

یہ کرکٹرز دو کوڑی کی کارکردگی کے بدلے کیا واقعی لاکھوں کے سینٹرل کنٹریکٹ کے مستحق ہیں؟

کیا انہیں دیے جانے والے پرکشش معاوضوں اور مراعات کا تعین ان کی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے؟

دبئی کے دوسرے ٹی ٹوئنٹی نے پاکستانی ٹیم کو ون ڈے سیریز اور پھر پہلے ٹی ٹوئنٹی کی ہزیمت کے آنسو پونچھنے کا آخری موقع فراہم کیا تھا لیکن اس دورے کا اختتام شکست پر کرکے وہ ٹی ٹوئنٹی کی عالمی نمبر دو کی پوزیشن سے محروم ہوگئی۔ شائقین کی محبت تو پہلے ہی وہ گنواچکی ہے۔

ایک سو اکیاون کا ہدف مشکل ضرور تھا لیکن ایک موقع پر ہاتھ میں آتا ہوا دکھائی دے رہا تھا تاہم تین گیندوں نے روشنیوں سے چمکنے والے دبئی اسٹیڈیم کے پاکستانی ڈریسنگ روم میں اندھیرا کردیا۔

عمران طاہر نے لگاتار دو گیندوں پر شعیب ملک اور عبدالرزاق کو بولڈ کردیا تو دوسری جانب سے پارنل کی گیند پر وکٹ کیپر ڈی کوک کے انتہائی خوبصورت کیچ نے صہیب مقصود کی 37 رنز کی عمدہ اننگز کا خاتمہ کردیا جو ٹیم کو جیت تک لے جانے کی آخری امید تھے۔

شعیب ملک اور عبدالرزاق کے بارے میں اب سلیکٹرز اور منیجمنٹ کیا کہے گی کہ انہیں بیٹنگ لائن کو مضبوط کرنے کے لیے بیٹنگ آل راؤنڈرز کے طور پر ٹیم میں شامل کیا گیا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ چلے ہوئے کارتوس بھی کبھی فائر ہوئے ہیں کیا؟

ستم بالائے ستم ناصر جمشید کچھ نہ کرکے بھی دوبارہ ٹیم میں آگئے اور ایک بار پھر غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرکے ٹیم کی مشکلات بڑھاگئے۔

احمد شہزاد کا جوش انہیں پھر لے ڈوبا۔ کپتان محمد حفیظ بدقسمتی سے امپائر ضمیر حیدر کے غلط ایل بی ڈبلیو فیصلے کی بھینٹ چڑھ گئے۔

عمراکمل اور شاہد آفریدی اس دورے میں اپنے آپ میں ہی گم ہوچکے ہیں شائقین کو کیسے نظرآئیں گے؟

اس سے قبل جنوبی افریقی بیٹسمینوں نے ٹی ٹوئنٹی کی بہترین سمجھی جانے والی بولنگ کے خلاف کھل کر اسٹروکس کھیلے۔

ڈی کوک کے چھ چوکوں کی مدد سے بنائے گئے تیس رنز نے اسکورنگ کی رفتار متعین کی۔

ہاشم آملا ڈی کوک کے جانے کے بعد اپنے خول سے باہر آئے۔ انہوں نے دو چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 48 رنز اسکور کیے۔

کپتان فاف ڈوپلیسی کی ناقابل شکست نصف سنچری نے ٹیم کا سکور 150 تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

Image caption سعید اجمل نے آخری میچ میں تین وکٹ لے کر ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ وکٹ لینے کا ا‏عزاز حاصل کیا

جنوبی افریقہ کے سو رنز تیرہویں اوورز میں مکمل ہوئے تھے جبکہ آخری پانچ اوورز میں تین وکٹیں گرنے کے سبب رنز بنانے کی اوسط سات رنز رہی۔

سعید اجمل ایک بار پھر تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے اس کے ساتھ ہی وہ ٹی ٹوئنٹی میں چھہتر وکٹوں کے ساتھ سرفہرست ہوگئے۔عمرگل چوہتر وکٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

سہیل تنویر کو اپنے آخری دو اوورز میں دو وکٹیں مل گئیں لیکن شاہد آفریدی چار اوورز میں تنتالیس رنز کی بھاری قیمت چکاکر بھی وکٹ سے محروم رہے انہوں نے اپنی ہی گیند پر ہاشم آملا کو آؤٹ کرنے کا موقع بھی ضائع کیا۔

عرفان بالآخر دورے کے آخری میچ میں آکر ان فٹ ہوگئے۔

ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل کیے گئے دو’ مہمان‘ شعیب ملک اور عبدالرزاق ایک ایک اوور کے بولر ثابت ہوئے۔

رزاق نے اس اوور میں چودہ رنز دے ڈالے جبکہ شعیب ملک بارہ رنز دینے کے خطاوار ٹھہرے جس کے بعد محمد حفیظ نے انہیں بولنگ سے دور رکھنا ہی مناسب سمجھا۔

اسی بارے میں