دوسرا ٹی ٹوئنٹی: کیا سیریز بچ پائے گی؟

Image caption پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کو ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت چار رنز سے شکست ہوئی

مختصر دورانیے کی کرکٹ میں بھی مایوسی سائے کی طرح پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ساتھ ہے۔

متحدہ عرب امارات میں دونوں میچوں میں ناکامیوں کے بعد بدھ کی رات جوہانسبرگ میں بھی نتیجہ پاکستان کے خلاف گیا اور اب دونوں ٹیموں کا اس سال ٹی ٹوئنٹی کا آخری ٹاکرا جمعے کو کیپ ٹاؤن میں ہو رہا ہے۔

جوہانسبرگ: پہلے ٹی ٹوئنٹی میں جنوبی افریقہ فاتح

پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کو ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت چار رنز سے شکست ہوئی کیونکہ جب بارش شروع ہوئی تو مروجہ فارمولے کے مطابق وہ مطلوبہ سکور سے چار رنز سے پیچھے تھی۔

شکست کے بعد ٹیم کی کارکردگی سے زیادہ صرف اسی سوال پر زور ہے کہ کیا کپتان اور کوچ کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ بارش ہونے کی صورت میں اگر کھیل رکا تو انہیں ڈک ورتھ لوئس کے قانون کے مطابق کتنے سکور پر ہونا چاہیے تھا۔ اس صورتِ حال میں تمام اچھی ٹیمیں اعداد و شمار کو ہر حال میں ذہن میں رکھتی ہیں۔

سعید اجمل جیسے میچ ونر کو باہر بٹھانے اور صہیب مقصود کے بیٹنگ آرڈر میں باربار تبدیلی کے فیصلے بھی حیرت کا باعث بنے ہیں۔

کپتان محمد حفیظ نے دبئی کے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں صہیب مقصود سے اننگز کا آغاز کرادیا جب کہ جوہانسبرگ میں ان کی جگہ عمر اکمل کو پہلے بیٹنگ کے لیے بھیج دیا گیا۔

پاکستانی ٹیم میں انور علی کی جگہ سعید اجمل کی واپسی یقینی ہے۔ جنوبی افریقہ نے ہنری ڈیوڈز کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اے بی ڈی ویلیئرز ٹیم کا حصہ ہوں گے جنھیں پہلے میچ میں انہیں آرام دیا گیا تھا۔

پاکستانی ٹیم نے کیپ ٹاؤن میں جنوبی افریقہ کے خلاف اس سے قبل کوئی ٹی ٹوئنٹی میچ نہیں کھیلا۔اس کے دو میچ بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے خلاف دو ہزار کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں تھے جو اس نے جیت لیے تھے۔

جنوبی افریقہ نے اس میدان میں تین میچ کھیلے ہیں جن میں سے دو جیتے ہیں اور ایک میں شکست کھائی ہے۔

اسی بارے میں