22 سالہ کارلسن شطرنج کی دنیا کے نئے تاجدار

Image caption ناروے کے میگنس کارلسن تیرہ سال کی عمر میں گرانڈ ماسٹر بن گئے تھے

ناروے کے میگنس كارلسن شطرنج کے نئے عالمی چیمپیئن بن گئے ہیں۔

انہوں نے جنوبی ہند کے شہر چنئی میں انہوں نے بھارت کے پانچ بار کے عالمی چمپیئن وشوناتھن آنند کو باآسانی شکست دے کر عالمی خطاب حاصل کیا۔

كارلسن نے جمعہ کو کھیلی جانے والی دسویں بازی میں وشوناتھن آنند کو ڈرا کھیلنے پر مجبور کیا اور اسی کے ساتھ ہی انھوں نے خطاب کے لیے ضروری نصف پوائنٹ بھی حاصل کر لیا۔

اس چیمپئن شپ میں كارلسن کے ساڑھے چھ اور آنند کے کل ساڑھے تین پوائنٹس رہے۔

فتح کے بعد کارلسن نے کہا کہ ’میں صرف کوشش کرتا ہوں اور بہترین چالیں چلتا ہوں۔‘

عالمی شطرنج چیمپیئن شپ کے شروع ہونے سے پہلے ہی شطرنج کے ماہرین نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ یورپ میں شطرنج کی دنیا میں سنسنی پھیلانے والے میگنس کارلسن یہ خطاب اپنے نام کر لیں گے۔

واضح رہے کہ کارلسن نے 22 سال کی عمر میں شطرنج کا یہ عالمی خطاب حاصل کیا ہے جو اپنے آپ میں کسی کارنامے سے کم نہیں۔اس طرح كارلسن روس کے گیری كاسپاروف کے بعد دوسرے کھلاڑی بن گئے جنھوں نے اتنی کم عمر میں اس اہم خطاب کو حاصل کیا ہے۔

چیمپیئن شپ میں كارلسن کی قوت متخیلہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے چنّئی میں ایک بھی بازی نہیں ہاری۔

جب کارلسن نے آنند کو پانچویں اور چھٹی بازی میں شکست دی اس وقت عمومی طور پر یہ مانا جانے لگا کہ وہ یہ خطاب حاصل کر لیں گے کیونکہ اس جیت کے ساتھ انھیں چار دو کی برتری حاصل ہوگئی تھی۔

اس کے بعد نویں بازی جیت کر انھوں نے آنند کی رہی سہی امید بھی ختم کر دی۔

اس طرح کے بڑے مقابلوں میں واپسی کرنے میں ماہر سمجھے جانے والے اور سنہ 2000 ، 2007 ، 2008 ، 2010 اور 2012 کے عالمی چیمپئن آنند کو كارلسن نے برلن ڈیفنس کے جال میں ایسا پھنسایا کہ اسے توڑنا تو دور، وہ اس سے نکل ہی نہیں سکے۔

معروف کھیل صحافی اور شطرنج کے تجزیہ نگار وی كرشناسوامي نے كارلسن کی کامیابی کی پانچ وجوہات بتائيں۔

ان کے مطابق سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ آنند کی عمر اب 44 سال ہو چکی ہے جبکہ كارلسن 30 نومبر کو 23 سال کے ہوں گے۔ دوسری یہ کہ آنند کی ابتدائی چالیں ناکام رہیں جوکبھی ان کی سب سے بڑی طاقت ہوا کرتی تھیں۔

Image caption روس کے گیری کاسپوروف کے بعد وہ اس خطاب کو حاصل کرنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے ہیں

تیسری وجہ كارلسن نے آخری چالوں میں انتہائی جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کم سے کم دو بار آنند کو بازی کے آخری دور میں ہی شکست دی جبکہ چوتھی وجہ آنند پر توقعات کا دباؤ واضح طور پر عیاں تھا۔

پانچویں وجہ یہ رہی کہ وسیع تجربہ ہونے کے باوجود آنند نے غلطیاں کیں جن کا فائدہ كارلسن کو ملا۔

مثال کے طور پر نویں بازی میں جہاں بازی ڈرا ہونے کے پورے امکانات تھے وہاں انہوں نے اپنی 28 ویں چال میں غلطی کی جس کی وجہ سے وہ بازی ہار گئے اور اس کے ساتھ ہی كارلسن کی جیت کا منظر نامہ بھی تیار ہو گیا۔

كارلسن کی خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے كرشناسوامي نے کہا کہ ’درمیانی کھیل پر ان کی پکڑ بے حد مضبوط ہے اور گزشتہ چار پانچ برسوں کے دوران اسی کی بدولت وہ اتنے بڑے کھلاڑی بن کر ابھرے ہیں۔‘

اسی بارے میں