فٹبال میچ فکسنگ کے الزام میں چھ افراد حراست میں

Image caption اخبار کی تحقیقات کے مطابق مانچسٹر میں ایک ملاقات میں سنگاپور کے ایک سٹہ باز نے کم درجے کے فٹ بال لیگ میچز کے سکور اور نتائج کو فکس کرنے کے لیے 50 ہزار برطانوی پاؤنڈ دینے کی پیشکش کی تھی

برطانوی فٹ بال میں میچ فکسنگ کے خلاف کام کرنے والے ادارے نیشنل کرائم ایجنسی نے چھ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں تین فٹ بالر بھی شامل ہیں۔ تاہم بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان فٹ بالروں میں سے کوئی بھی کسی پروفیشنل کلب سے منسلک نہیں ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد غیر قانونی عالمی سٹہ بازوں کے گروہ کو روکنا ہے۔

واضح رہے کہ این سی اے اس سال منظم اور خطرناک جرائم سے لڑنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔

این سی اے کا کہنا ہے کہ وہ غیر قانونی سٹے بازی کے انسداد کے سلسلے میں گیمبلنگ کمیشن اور فٹ بال ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

نیشنل کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس وقت تحقیقات کا عمل شروع ہے اور وہ اس بارے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کر سکتی۔

دوسری جانب فٹ بال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اسے ان افراد کی حراست کا علم ہے: ’ہم حکام کے ساتھ ان الزامات کی تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ ہم اس بارے میں تبصرہ نہیں کریں گے۔‘

ان چھ افراد کی حراست اس وقت عمل میں آئی جب برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف میں میچ فکسنگ کی خصوصی رپورٹ شائع ہوئی۔

اخبار کی تحقیقات کے مطابق مانچسٹر میں ایک ملاقات میں سنگاپور کے ایک سٹہ باز نے کم درجے کے فٹ بال لیگ میچوں کے سکور اور نتائج کو فکس کرنے کے لیے 50 ہزار برطانوی پاؤنڈ دینے کی پیشکش کی تھی۔

تاہم سنگاپور کی پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے کسی کو حراست میں نہیں لیا ہے۔

ڈیلی ٹیلیگراف کے بقول اگر میچ فکنگ ہوتی ہے تو سٹے باز ہزاروں پاؤنڈ جیتے گا۔

رپورٹوں کے مطابق سٹے باز نے دو میچوں کا سکور اور نتائج بدلنے کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ وہ کھلاڑیوں کو بتائیں گے کہ کتنے گول کرنے ہیں۔

ویڈیو میں اس سٹے باز کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ میچ کے شروع میں ییلو کارڈ لینے پر کھلاڑی کو پانچ ہزار پاؤنڈ دے گا، اور ییلو کارڈ لینے کا مقصد یہ اشارہ دینا ہو گا کہ یہ میچ فکس ہے۔

فٹ بال لیگ کا کہنا ہے کہ ان سے پولیس نے رابطہ نہیں کیا ہے۔ فٹ بال لیگ کے چیف ایگزیکٹو شون ہاروے کا کہنا ہے: ’فٹ بال میں بدعنوانی کے معاملے کو فٹ بال لیگ اور حکام بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔‘

ڈیلی ٹیلیگراف میں چھپنے والی خصوصی رپورٹ کے رپورٹر ڈیکلن ہِل کئی سالوں سے فٹ بال میں بدعنوانی کے حوالے سے تفتیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں بدعنوانی کے طریقے بدل گئے ہیں:

’فٹ بال میں عالمی سطح میں بدعنوانی آ گئی ہے۔ ایشیا کے سٹے باز یورپی ممالک آتے ہیں اور کمزور کھلاڑیوں اور ریفریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔‘