’پاکستان اتنا بھی غیر محفوظ نھیں‘

Image caption لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر سنہ دو ہزار نو میں حملے کے بعد سے پاکستان میں کوئی غیر ملکی کرکٹ ٹیم نہیں آئی ہے

پاکستان اتنا بھی غیر محفوظ نھیں کہ یہاں کوئی بھی بین الاقوامی ٹورنامنٹ نہ کرایا جا سکے یہ کہنا تھا پندرہ ممالک کے ان کھیلوں کے صحافیوں کا جو پاکستان کے شہر لاہور میں تین روزہ قیام پر بہت خوش اور مطمئن تھے۔

لاہور میں 26 نومبر سے 28 نومبر تک ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل پریس آف سپورٹس اے آئی پی ایس کی ایشائی تنظیم ایسوسی ایشن آف سپورٹس پریس یونین کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ایشیا کے مختلف ممالک کے 21 نمائندوں نے شرکت کی۔

قطر کی سپورٹس رائٹر ایسوسی ایشن کے صدر اور اے آئی پی ایس کے نائب صدر محمد المالکی کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستانی قوم مہمان نواز اور امن سے محبت کرنے والی محسوس ہوئی اور یہاں موجود سہولیات کو دیکھتے ہوئے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان آنا چاہیے۔

محمد المالکی نے کہا کہ وہ خود ایک سپورٹس رائٹر ہیں وہ اپنے ملک جا کر پاکستان کے اس مسئلے پر ضرور قلم اٹھائیں گے اور اے آئی پی ایس کے فورم پر بھی لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ اپنے ملکوں کی کھیلوں کی تنظیموں کو باور کرائیں کہ پاکستان میں حالات اتنے برے نہیں ہیں کہ یہاں کہ کھیلوں کے شوقین عوام کو بین الاقوامی ٹورنامنٹس سے محروم کیا جائے۔

چین کی سپورٹس رائٹر ایسوسی ایشن کے صدر چنگ ہائی فنگ کا کہنا ہے کہ لاہور آ کر ان کا ایک خواب پورا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے اس تاریخی شہر کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا اور یہاں آ کر انھیں بے حد خوشی ہوئی ہے اور لاہوریوں کی مہمان نوازی نے ان کا دل جیت لیا ہے۔

چنگ ہائی فنگ کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک پاکستانی عوام کو کھیلوں کی بین الاقوامی سرگرمیوں سے محروم رکھنا ان کے نزدیک نا انصافی ہے۔

فنگ کا کہنا تھا کہ: ’ان تین دنوں میں میں نے خود کو محفوظ پایا اور مہمان نوازی سے بھی لطف اٹھایا، میں قذافی سٹیڈیم لاہورگیا اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں کسی بھی بین الاقوامی ٹورنامنٹ کو منعقد کرانے کی بھر پور صلاحیت موجود ہے۔‘

فنگ کے مطابق ایگزیکٹو کمیٹی کے لاہور میں کامیاب اجلاس سے پاکستان کو ضرور فائدہ ہو گا اور سب سپورٹس رائٹر اپنے اپنے ملک میں جا کر ان تجربات اور مشاہدات کو اپنے لوگوں کو بتائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں جتنا بھی لکھ سکے ضرور لکھیں گے اور انٹرنیشنل سپورٹس فیڈریشنز کو اپنی تحریروں سے قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان کھیلوں کے انعقاد کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔

کھیلوں کے ان صحافیوں نے سکیورٹی کے انتظامات کے بغیر ہی آزادنہ طور پر لاہور میں سیر و تفریح کی اور خوب لطف اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تو کوئی ڈر یا خوف محسوس نہیں ہوا۔ ان صحافیوں کے مطابق دور بیٹھ کر چیزیں مختلف دکھائی دیتی ہیں لیکن یہاں آ کر انہیں محسوس ہوا کہ یہاں کے حالات تو ٹھیک ہیں۔

ہانگ کانگ میں ٹی وی کے سپورٹس جرنلسٹ اور ہانگ کانگ سپورٹس پریس ایسوسی ایشن کے وائس چئرمین چیو چن ریمنڈ تو پاکستان کا اپنے ملک میں تاثر بہتر کرنے کے لیے کافی پر جوش تھے۔ ریمنڈ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک جا کر ٹی وی پروگرام کے ذریعے پاکستان کا ایک اچھا، مہمان نواز اور بطور ایک محفوظ ملک تاثر اجاگر کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان کی سپورٹس رائٹر ایسوسی ایشن کے صدر شاہد شیخ نے کہا کہ اگرچہ اس اجلاس کو پاکستان میں کرانے کے لیے انھیں مالی اور دیگر کئی مسائل کا سامنا رہا لیکن انہیں خوشی ہے کہ یہ مہمان پاکستان سے ایک اچھا تاثر لے کر واپس جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں