اور اب لنکا ڈھانے کی تیاری

Image caption پاکستان سری لنکا سیریز کا آغاز 11 دسمبر کو ٹی ٹوئنٹی میچ سے ہوگا

جنوبی افریقہ کو اسی کے دیس میں ہرانے کے بعد اب پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نظریں لنکا ڈھانے پر لگی ہوئی ہیں۔

پاکستانی ٹیم کو متحدہ عرب امارات میں سری لنکا کے خلاف دو ٹی ٹوئنٹی، پانچ ون ڈے اور تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلنی ہے جس کا آغاز 11 دسمبر کو ٹی ٹوئنٹی میچ سے ہوگا۔

گوکہ پاکستانی ٹیم ون ڈے سیریز جیت کر جنوبی افریقہ سے واپس آئی ہے لیکن مسائل وہیں چھوڑ کر نہیں آئی ہے، بلے بازوں کی غیرمستقل مزاجی سائے کی طرح اس کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔

اگر ٹیم کو کپتان مصباح الحق کا سہارا نہ ملتا تو جتنے رنز سکور بورڈ پر نظر آتے ہیں وہ بھی نہ ہوتے۔

مصباح الحق نے اس سال ٹیسٹ اور ون ڈے میں مجموعی طور پر 1,793 رنز سکور کیے ہیں لیکن ٹیم کے تین اہم بلے بازوں کی کارکردگی قابل ذکر نہیں رہی ہے۔

آئرلینڈ اور زمبابوے کے خلاف دو سنچریاں بنانے والے محمد حفیظ نے اس سال جنوبی افریقی ٹاپ کلاس بولنگ کے سامنے 13 ون ڈے اننگز میں 18.92 کی اوسط سے صرف 246 رنز بنائے ہیں جس میں فقط ایک نصف سنچری شامل ہے۔

ناصرجمشید کے لیے پورا سال بھیانک خواب کی طرح رہا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف آٹھ اننگز میں ان کے رنز کی تعداد صرف 114 ہے جس کی اوسط 14.25 بنتی ہے۔

عمراکمل اگر وکٹ کیپنگ نہ کر رہے ہوں تو بحیثیت بلے باز ان کی ٹیم میں جگہ ہی نہ بنے۔ وہ اس سال جنوبی افریقہ کے خلاف دو سیریز میں صرف 142 رنز بنا پائے ہیں جس کی اوسط صرف 15.77 ہے اور اس میں ایک بھی نصف سنچری شامل نہیں۔

ان حالات میں مصباح الحق کو سری لنکا سے مقابلے کے لیے اپنے علاوہ احمد شہزاد اور صہیب مقصود پر بھروسہ کرنا ہوگا۔

ٹیسٹ سیریز میں شان مسعود، خرم منظور، اسد شفیق، اور اظہرعلی ایک بار پھر ٹیم کا حصہ ہوں گے۔

پاکستانی ٹیم کو محمد عرفان کی کمی شدت سے محسوس ہوگی جنھوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں مسلسل نو میچ کھیلے تاہم آخری میچ میں ان کی فٹنس جواب دے گئی۔

عمرگل فٹ ہوکر میدان میں واپس آ گئے ہیں تاہم ان کی سلیکشن سلیکٹروں کے سو فیصد مطمئن ہونے پر ہے۔

سپن کا شعبہ ایک بار پھر سعید اجمل اور ذوالفقار بابر کے سپرد ہوگا۔ ذوالفقار بابر ہاتھ زخمی ہونے کے سبب جنوبی افریقہ نہیں جاسکے تھے۔

سری لنکا کی ٹیم مہیلا جے وردھنے کے بغیر ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز کھیلے گی لیکن تلکارتنے دلشن اور کمار سنگاکارا کا تجربہ اس کے پاس موجود رہے گا، جبکہ باؤلنگ میں رنگانا ہیرتھ، لستھ مالنگا، کولاسیکرا اور تشارا پریرا پاکستانی بلے بازوں کا امتحان لینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

سری لنکن کوچ گراہم فورڈ کو اس بات کا گلہ ہے کہ اس سال ان کی ٹیم پاکستان کے مقابلے میں بہت کم کرکٹ کھیل پائی ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان دو سال پہلے متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز پاکستان نے ایک صفر سے اور ون ڈے سیریز چار ایک سے جیتی تھی جبکہ واحد ٹی ٹوئنٹی بھی پاکستان نے جیتا تھا۔

اسی بارے میں