’بدعنوان حکام سے چھٹکارا نہ پایا تو اولمپکس سے اخراج ممکن‘

Image caption اگر معطلی سے معاملہ حل نہیں ہوتا تو اگلا قدم منظوری کی منسوخی ہو سکتا ہے: تھامس باخ

عالمی اولمپک کمیٹی کے صدر کا کہنا ہے کہ اگر بھارتی اولمپک تنظیم نے اپنے بدعنوان حکام سے چھٹکارا نہیں پایا تو بھارت کو اولمپکس سے اخراج کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو میں ٹامس باخ نے کہا کہ اگر بھارت کی اولمپک ایسوسی ایشن منگل تک ’بہتر انتظام کے قوانین‘ کی پاسداری میں ناکام رہتی ہے تو آئی او سی اسے تسلیم کرنے سے انکار کے لیے تیار ہے۔

باخ نے کہا کہ ’یہ اصول کی بات ہے۔ گڈ گورننس آئی او سی کے لیے ایک کلیدی معاملہ ہے۔ ہمیں سختی دکھانے اور یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ بہتر انتظام کے قوانین پر عمل کیا جائے۔‘

اگر آئی او سی بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن سے اپنی منظوری واپس لے لیتی ہے تو بھارت ہر قسم کے اولمپکس مقابلوں میں شرکت کے لیے نااہل ہو جائے گا اور وہ جنوبی افریقہ کے بعد اولمپکس موومنٹ سے خارج ہونے والا پہلا ملک ہوگا۔

جنوبی افریقہ کو 40 برس سے زیادہ عرصے پہلے نسلی امتیاز کی پالیسیوں کی وجہ سے اولمپکس سے خارج کیا گیا تھا اور نوے کی دہائی میں اس کی واپسی ہوئی تھی۔

بھارتی اولمپکس ایسوسی ایشن کا اجلاس اتوار کو نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے جس میں آئی او سی کی ہدایات کے مطابق تنظیم کے آئین میں تبدیلیوں پر غور ہوگا۔

تھامس باخ نے کہا کہ ’ہم انتظار کریں گے کہ اگر آخری وقت میں کوئی تبدیلی آتی ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہمیں اگلا قدم اٹھانے پر غور کرنا ہوگا۔‘

آئی او سی نے تنظیمی انتخابات میں حکومتی مداخلت پر بھارتی اولمپکس ایسوسی ایشن پر ایک برس قبل بھی پابندی لگائی تھی۔

اس کے بعد سے اب تک کچھ معاملات تو حل ہو چکے ہیں لیکن بھارتی نے ابھی تک آئی او سی کے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ ان افراد کو تنظیم کا حصہ نہ بنائے جن پر مجرمانہ اقدامات کے مقدمے بنے ہیں۔

عالمی اولمپک کمیٹی کے صدر کا کہنا تھا کہ ’(اولمپک) چارٹر واضح ہے۔ اگر معطلی سے معاملہ حل نہیں ہوتا تو اگلا قدم منظوری کی منسوخی ہو سکتا ہے۔‘

گزشتہ چند برسوں میں آئی او سی سیاسی مداخلت کے معاملے پر کویت، گھانا اور پانامہ کی قومی اولمپکس کمیٹیوں کی رکنیت بھی معطل کر چکی ہے تاہم بعد میں انہیں بحال کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں