انگلینڈ ایشز میں واپس آ سکتا ہے: کک

Image caption انگلینڈ کے کپتان السٹر کک دونوں میچوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان السٹر کوک نے کہا ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم ایشز میں واپس آنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا میں جاری ایشز سیریز کے پہلے دونوں ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ کی ناکامی کے بعد کک نے یہ باتیں کہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی ٹیم میں یہ صلاحیت ہے کہ دو صفر سے پیچھے رہ جانے کے بعد بھی وہ سیریز میں واپس آ سکتے ہیں اور آسٹریلیا کو مسلسل شکست دے سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’ایشز ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اگر ہم یہ سوچنے لگے کہ یہ ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہے تو واقعی نکل جائے گی۔‘

آسٹریلیا نے انگلینڈ کو ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں بھی ہرا دیا

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں اپنی روح کی گہرائیوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے اور وہاں سے کچھ نکال کر لانے کی ضرورت ہے۔‘

28 سالہ اوپننگ بلے باز نے کہا کہ ’دو صفر کا خسارہ ایسا نہیں جسے ختم نہ کیا جا سکے۔ ہمیں گرد جھاڑ کر اٹھنا ہے اور سخت محنت کے ذریعے تصویر کا رخ بدل ڈالنا ہے۔ ہمارے لیے یہ (شکست) بہت تکلیف دہ ہے لیکن اس کا مداوا صرف ہمی کر سکتے ہیں۔‘

تیسرا ٹیسٹ جمعے سے پرتھ میں شروع ہو رہا ہے۔ ایشز کی تاریخ میں انگلینڈ صرف ایک بار ہی اس میدان پر کامیابی حاصل کر سکا ہے۔ اسی لیے اس میچ میں آسٹریلیا کی جیت کے زیادہ امکانات بتائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ملبرن اور سڈنی کی طرح پرتھ میں جیت کر آسٹریلیا ایشز پر قبضہ کر لے گا۔

Image caption آسٹریلیا کے کپتان بھرپور فارم میں ہیں اور انھوں نے دونوں میچوں میں سنچریاں سکور کی ہیں

انگلینڈ کے کپتان کک اس سال گذشتہ پانچ برسوں میں اپنی سب سے کم اوسط پر بیٹنگ کر رہے ہیں اور انگلینڈ کی ٹیم گذشتہ 20 اننگز میں 400 سے زیادہ کا سکور ایک بار بھی حاصل نہیں کر سکی ہے۔

جبکہ دوسری جانب آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک بہترین فارم میں ہیں۔ انھوں نے دونوں میچوں میں سنچریاں سکور کی ہیں اور وکٹ کیپر بیٹس مین ہیڈن نے انھیں دنیا کا بہترین بلے باز قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کو انگلینڈ نے گذشتہ سیریز میں تین صفر سے شکست دی تھی اور اس سیریز سے قبل نو میں سے سات میں اسے کامیابی حاصل رہی تھی لیکن اس سیریز میں آسٹریلیا نے اپنی واضح برتری قائم کر رکھی ہے۔

کک نے یہ تسلیم کیا کہ ان کی ٹیم کے ساتھ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے کیونکہ بقول ان کے ’ٹیم اچھی ہے اور وہ اسی وقت تک اچھی رہے گی جب تک وہ میدان میں اس کا مظاہرہ کرتی ہے۔‘

اسی بارے میں