کرکٹر کا سب سے بھرپور جواب اس کی پرفارمنس ہوتی ہے

Image caption مشکل صورتحال میں پاکستانی ٹیم کو یہ جیت آفریدی کی بولنگ سے نہیں بلکہ ان کی ذمہ دارانہ بیٹنگ سے ملی ہے

سیریز کی پہلی جیت ہمیشہ اعتماد میں اضافہ کرتی ہے اور حریف پر نفسیاتی برتری قائم کردیتی ہے۔

پاکستانی ٹیم اس جیت سے کتنا فائدہ اٹھائے گی یہ تو آنے والے دنوں میں معلوم ہوگا، فی الحال اس جیت اور میچ وننگ کارکردگی نے شاہد آفریدی کے حوصلے ضرور بڑھا دیے ہیں۔

ایک مشکل صورتحال میں پاکستانی ٹیم کو یہ جیت آفریدی کی بولنگ سے نہیں بلکہ ان کی ذمہ دارانہ بیٹنگ سے ملی ہے۔ حالیہ دنوں میں وہ اپنی بیٹنگ کی کارکردگی کی وجہ سے سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی تنقید کی زد میں تھے اور اس تنقید کا ترکی بہ ترکی جواب دے آئے تھے لیکن کسی نے صحیح کہا ہے کہ کرکٹر کا سب سے بھرپور جواب اس کی پرفارمنس ہوتی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کی عالمی نمبر ایک ٹیم نے اس فارمیٹ کے سب سے متنوع بولنگ اٹیک کے خلاف 145 کا سکور بنایا جو خود اس کی ابتدائی خراب پوزیشن اور بعد میں پاکستان کی وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں کے پیش نظر میچ وننگ دکھائی دینے لگا تھا۔

لیکن شاہد آفریدی لگتا ہے یہ سوچ کر آئے تھے کہ ایک وکٹ حاصل کرنے اور چار اووروں میں صرف 20 رنز دینے کے بعد وہ رہی سہی کسر بیٹنگ میں پوری کردیں گے۔ انھوں نے نہ صرف ٹی ٹوئنٹی میں ایک ہزار رنز مکمل کیے بلکہ کسی سنچری یا نصف سنچری سے بھی بیش قیمت میچ وننگ اننگز کھیل ڈالی۔

پاکستان نے تیسرے اوور میں ہی احمد شہزاد کی وکٹ گنوائی جن کا ڈرائیو شارٹ کور میں تھری مانے نے کسی گول کیپر کی طرح کیچ میں تبدیل کیا۔

حفیظ اور شرجیل خان کی نصف سنچری کی شراکت نے ٹیم کو دوبارہ صحیح راستے پر ڈالا لیکن دلشان کی دوسری کوشش میں لیے گئے کیچ نے شرجیل کو پویلین کی راہ دکھا دی۔

حفیظ مینڈس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے اور عمراکمل اگلی ہی گیند پر رن آؤٹ ہوگئے۔

آؤٹ آف فارم عمرامین ٹیم کی مشکلات بڑھاتے ہوئے چل دیے۔

صہیب مقصود اور بلاول بھٹی کے آؤٹ ہونے کے بعد شاہد آفریدی ہی پاکستانی ٹیم کی آخری امید تھے جو اس بار اپنوں کو مایوس کرنے کے موڈ میں نہیں تھے۔ انھوں نے آخری اوور کو سنسنی خیز بنانے کی بجائے اس کی پہلی ہی گیند پر چھکا لگا کر میچ ختم کردیا۔

Image caption سعید اجمل نے سنگاکارا کو آؤٹ کر کے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں مجموعی طور پر چار سو وکٹیں مکمل کر لیں

اس سے قبل سری لنکن اننگز میں 15ویں اوور تک صورتِ حال پاکستانی بولرز کی مرضی منشا کے مطابق تھی جس میں انھیں 89 رنز کے عوض چار وکٹیں مل چکی تھیں لیکن آخری پانچ اوورز میں ان بولرز نے 56 رنز دے ڈالے۔

کپتان محمد حفیظ نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ رات کو گرنے والی اوس کے سبب کیا تھا کہ بعد میں بولنگ آسان نہیں ہوتی۔

سری لنکن اننگز کے دوران پہلے چھ اوورز پانچ مختلف بولرز نے کیے جن میں اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلنے والے تیز بولر عثمان خان بھی شامل تھے تاہم وہ ایک اوور کے بعد ہی کپتان کی نظروں سے ایسےاوجھل ہوئے کہ دوبارہ بولنگ نہ کر سکے۔

اینجیلو میتھیوز پرسکون ماحول میں ہلچل مچاگئے۔ انھوں نے بولرز کو تگنی کا ناچ نچایا اور فیلڈروں کو ہر طرف دوڑایا۔بلاول بھٹی کے ایک اوور میں انھوں نے تین چوکوں کی مدد سے 18 رنز بٹورے۔

وہ پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد سہیل تنویر کی گیند پر باؤنڈری لائن پر شرجیل خان کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

سہیل تنویر اور سعید اجمل نے دو دو وکٹیں حاصل کیں لیکن رنز کی رفتار روکنے میں وہ بھی کامیاب نہ ہوسکے۔

سعید اجمل نے سنگاکارا کو آؤٹ کر کے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں مجموعی طور پر چار سو وکٹیں بھی مکمل کیں۔

اسی بارے میں