سیریز جیت لی، میچ ہارگئے

Image caption مصباح الحق نے اس سال ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں 15 نصف سنچریوں کی مدد سے 1373 رنز سکور کر کے دنیا میں سب سے آگے رہے

سال کے اپنے آخری ون ڈے میں پاکستانی بیٹنگ نے آنکھیں پھیر لیں، اور ٹیم سیریز جیت کر میچ ہارگئی۔

لستھ ملنگا دیر سے جاگے لیکن چار وکٹیں حاصل کر کے بھی وہ انورعلی کےسلوک کو نہیں بھولیں گے جن کے 41 رنز نے اسکور کو 232 تک پہنچادیا۔

پاکستانی بولنگ نے اس سکور کا دفاع کرنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن جنید خان کی تین اور سعید اجمل کی دو وکٹوں پر دنیشن چندی مل کے ناقابل شکست 64 رنز حاوی ہوگئے جنہوں نے آٹھ وکٹیں گرنے کے بعد اپنی ٹیم کو میچ کے آخری اوور میں دو وکٹوں کی جیت سے ہمکنار کردیا۔

پاکستان نے اپنی ٹیم میں دو تبدیلیاں کرتے ہوئے شاہد آفریدی اور بلاول بھٹی کی جگہ عبدالرحمٰن اور انورعلی کو شامل کیا۔

سری لنکا نے کلاسیکرا کی جگہ اجنتھا مینڈس کو ٹیسٹ سیریز سے پہلے ہاتھ کھولنے کا موقع دیا۔

مصباح الحق نے ٹاس جیت کر اسی وکٹ پر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جس پر گذشتہ میچ میں پہلے کھیلتے ہوئے سری لنکا کی ٹیم 225 رنز پر آؤٹ ہوئی تھی۔

پاکستانی ٹیم وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں کے سبب کوئی بڑی شراکت قائم نہ ہوسکی اور بڑے سکور تک پہنچنا ممکن نہ رہا۔

احمد شہزاد اور شرجیل خان نے خوبصورت سٹروکس سے اننگز کی ابتدا کی تھی لیکن ٹیم کی نصف سنچری مکمل ہوتے ہوئے دونوں پویلین میں واپس جاچکے تھے۔

احمد شہزاد کی وکٹ محمد حفیظ کو کریز پر لے آئی جن کی نظریں دو طرفہ سیریز میں روہت شرما کے سب سے زیادہ 491 رنز کے عالمی ریکارڈ کے ساتھ ساتھ اس سال ون ڈے میں مصباح الحق کے سب سے زیادہ رنز سے آگے نکلنے پر بھی مرکوز تھیں۔ لیکن میتھیوز کے ہاتھوں 41 رنز پر بولڈ ہونے سے یہ دونوں ریکارڈز ٹوٹنے سے بچ گئے۔

حفیظ نے ون ڈے سال کا اختتام 1301 رنز پر کیا جبکہ اس سیریز میں ان کے رنز کی تعداد 448 رہی۔

مصباح الحق نے ایک بار پھر ذمہ داری دکھائی لیکن ملنگا کو چھکا لگا کر نصف سنچری مکمل کرنے کے فوراً بعد ہی وہ سنگاکارا کے غیرمعمولی کیچ پر مایوسی کے عالم میں میدان چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

مصباح الحق نے اس سال ون ڈے انٹرنیشنل میں 15 نصف سنچریوں کی مدد سے 1373رنز بنائے ہیں۔

عمراکمل ڈراپ کیچ کا بھی فائدہ اٹھاکر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ انورعلی کے دو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے بنائے گئے 41 رنز نے پاکستانی ٹیم کو اس سیریز کے سب سے کم سکور پر آؤٹ ہونے کی خفت سے بچا لیا۔

سری لنکا کی اننگز میں پریرا اور دلشن نے 12.2 اووروں میں 75 رنز کا عمدہ آغاز دیا۔ پریرا چار چھکوں اورتین چوکوں کی مدد سے 47 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ دلشن بھی پانچ رنز کی کمی سے نصف سنچری مکمل نہ کرسکے۔

سنگاکارا کی جانب سے بڑے سکور کا ایک بار پھر انتظار ہی رہا اور جب پریانجن اور میتھیوز بھی آؤٹ ہوئے تو بازی سری لنکا کے ہاتھ سے نکلتی محسوس ہو رہی تھی، لیکن چندی مل کے 70 گیندوں پر صرف ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے بنائے گئے 64 رنز میچ کا فیصلہ کرگئے۔ یہ کارکردگی ان کے مین آف دی میچ بننے کا سبب بھی بن گئی۔

کپتان مصباح الحق نے کہا: ’250 سے اوپر سکور اچھا ٹوٹل ہوتا۔ بولروں نے عمدہ کارکردگی دکھا کر میچ میں واپس آنے کی کوشش کی، لیکن آخرِ کار ناقص فیلڈنگ ہمیں مہنگی پڑی۔‘

اسی بارے میں