پاکستانی کرکٹ کے لیے سنہ 2013 خاصا مشکل رہا

Image caption پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ایک اور سخت دھچکہ اس وقت لگا جب زمبابوے نے اسے ہرارے ٹیسٹ میں 24 رنز سے شکست دی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے سنہ 2013 خاصا مشکل رہا۔ اس نےاگرچہ ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی نمبر ایک ٹیم جنوبی افریقہ کےخلاف ابوظہبی ٹیسٹ جیتا اور پھر اسی کے خلاف پہلی بار ون ڈے سیریز میں بھی کامیابی حاصل کی لیکن جنوبی افریقہ میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں اسے تین صفر سے شکست ہوئی۔

اسی سیریز کے جوہانسبرگ ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم اپنی تاریخ کے سب سے کم سکور 49 پر آؤٹ ہوئی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ایک اور سخت دھچکہ اس وقت لگا جب زمبابوے نے اسے ہرارے ٹیسٹ میں 24 رنز سے شکست دی۔

پاکستانی ٹیم نے اس سال ون ڈے انٹرنیشنل میں بھارت، ویسٹ انڈیز، آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ، زمبابوے، جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف سیریز جیتیں۔

Image caption ہاکی میں پاکستانی ٹیم بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی

پاکستان نے اس سال سب سے زیادہ آٹھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز بھی جیتے جبکہ ون ڈے میں اس کی فتوحات بھارت کے بعد دوسرے نمبر پر رہیں۔ اس کی جیت کا تناسب تقریباً پچاس فیصد رہا۔

ون ڈے کی انفرادی کارکردگی میں مصباح الحق اور محمد حفیظ قابل ذ کر رہے۔

مصباح الحق نے1300 سے زائد رنز بنانے کے ساتھ ساتھ کیلنڈر ایئر میں سب سے زیادہ ون ڈے نصف سنچریوں کا گیری کرسٹن اور سچن تندولکر کا عالمی ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

احمد شہزاد کے 347 رنز اس سال کسی بھی بلے باز کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ رنز ہیں۔

سعید اجمل اس سال ون ڈے انٹرنیشنل میں سب زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر بنے۔ انھوں نے ون ڈے ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی میں مجموعی وکٹوں کی سنچری بھی مکمل کی۔

ہاکی میں پاکستانی ٹیم بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی۔

جونیر ورلڈ کپ میں پاکستانی جونیر ٹیم نے مایوس کن پرفارمنس کے ساتھ نویں پوزیشن حاصل کی۔

سنوکر میں پاکستان کے محمد آصف اور محمد سجاد نے ورلڈ ٹیم اور سکس ریڈبال ورلڈ چیمپئن شپ جیتی تاہم عالمی امیچر سنوکر چیمپئن شپ میں محمد آصف عالمی اعزاز کا دفاع نہ کرسکے جبکہ محمد سجاد کو سیمی فائنل میں شکست ہوئی۔

پاکستان نے بھارت میں کھیلی گئی عالمی کبڈی چیمپئن شپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ فائنل میں اسے بھارت نے شکست دی۔

پاکستانی سپورٹس اس سال تنازعات میں گھری رہی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو عدالتی بندشوں کا سامنا رہا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذ کا اشرف کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا لیکن حکومت کی جانب سے نجم سیٹھی کی تقرری بھی عدالت میں چیلنج کردی گئی اور عدالت نے انھیں بھی بڑے فیصلے کرنے سے روک دیا۔

Image caption سنوکر میں پاکستان کے محمد آصف اور محمد سجاد نے ورلڈ ٹیم اور سکس ریڈبال ورلڈ چیمپئن شپ جیتی تاہم عالمی امیچر سنوکر چیمپئن شپ میں محمد آصف عالمی اعزاز کا دفاع نہ کرسکے

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات کو سابق اولمپینز کی بڑی تعداد نے غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

سابق حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے قاسم ضیا گئے اور ان کی جگہ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے اختر رسول پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بن گئے۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے معاملات میں سرکاری مداخلت کا معاملہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا لیکن انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی بار بار تنبیہہ بھی موثر ثابت نہیں ہوئی۔

انٹرنیشنل سپورٹس میں سب سے بڑی خبر سچن تندولکر کی ریٹائرمنٹ کی رہی جنہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ممبئی ٹیسٹ کے موقع پر اپنے 24 سالہ شاندار کریئر کا اختتام کیا۔

بھارتی کرکٹ کو سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے نتیجے میں زبردست دھچکہ پہنچا۔

انگلینڈ نے ہوم گراؤنڈ پر ایشز جیتی لیکن آسٹریلیا نے جوابی سیریز میں حساب بے باق کردیا۔

رافیل نڈال فٹ ہوکر ٹینس کورٹ میں واپس آئے اور دو گرینڈ سلیم ٹائٹلز جیت کر سال کا اختتام عالمی نمبر ایک رینکنگ پر کیا۔

خواتین ٹینس میں سرینا ولیمز نے اپنی برتری ثابت کردی۔

یوسین بولٹ ٹریک پر ہوا کی طرح اڑتے رہے جبکہ فارمولا ون سے سبیسٹئن ویٹل کی جیت کی خبریں آتی رہیں۔

صدسالہ ٹور ڈی فرانس برطانیہ کے کرس فروم نے جیتی۔

سرالیکس فرگوسن نے مانچسٹریونائٹڈ کے منیجر کا عہدہ چھوڑدیا۔

اس سال کئی قابل ذکر نام اس دنیا سے رخصت ہوئے جن میں کرکٹ کمنٹیٹرز کرسٹوفر مارٹن جینکنز، منیرحسین، ڈاکٹرمحمد علی شاہ، برطانوی براڈکاسٹر ڈیوڈ کولمین، سابق ٹیسٹ کرکٹرز ریج سمپسن، حسیب احسن، خالد حسن، شاہد اسرار اور سابق ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپئن کین نارٹن شامل ہیں۔

اسی بارے میں