آخری ٹیسٹ میچ میں ژاک کیلس کی سنچری

Image caption اس کے ساتھ ہی کیلس کے سنچری کی تعداد 45 ہو گئي اور وہ تیسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بن گئے

ڈربن میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن جنوبی افریقہ کے ژاک کیلس نے بھارت کے خلاف اپنے آخری ٹیسٹ میں سنچری سکور بنائی ہے۔

اس سنچری کے ساتھ ٹیسٹ میچ میں ان کی سنچریوں کی تعداد 45 ہو گئی ہے۔

کرکٹ کے مبصرین کا خیال یہ رہا ہے کہ کیلس ہی بظاہر ایسے کھلاڑی ہیں جو بھارت کے سچن تندولکر کی سب سے زیادہ سنچری کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔

کیلس کا اوسط بہر حال تندولکر سے بہتر ہے اور وہ ان کے بعد سب سے زیادہ سنچریاں سکور کرنے والی کھلاڑی ہیں جبکہ تندولکر اور رکی پونٹنگ کے بعد وہ سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں۔

لیکن ژاک کیلس کے اچانک ٹیسٹ میچ سے ریٹائرمنٹ کے اعلان نے کرکٹ شائقین کو سکتے میں لا دیا۔

سچن تندولکر کے مداح بڑی تعداد میں ان کے آخری میچ میں سنچری کی امید لے کر آئے تھے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے لیکن کیلس نے اپنے مداحوں کو نہ امید نہیں کیا اور انھوں نے ایک پر اعتماد اننگز کھیلتے ہوئے اتور کو سنچری سکور کی اور جنوبی افریقہ کو بھارت کے خلاف پہلی اننگز میں اہم برتری بھی دلائي۔

38 سالہ کیلس نے ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے کے وقت کہا تھا ’یہ آسان فیصلہ نہیں تھا، خاص طور پر ایسے وقت جب جلد ہی آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہونے والی ہے اور ٹیم بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ یہ ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع کہنے کا صحیح وقت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر وہ فٹ رہے تو سنہ 2015 میں منعقد ہونے والے کرکٹ کے عالمی کپ کھیلنا چاہیں گے۔

Image caption ایک بولر کے روپ میں بھی کیلس انتہائي کامیاب رہے

جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولر شان پولک نے کیلس کے ریٹائرمنٹ کے اعلان پر کہا تھا ’ان کی جگہ لینا انتہائی مشکل ہے کیونکہ ان کی جگہ لینے کے لیے ایک نہیں دو کھلاڑی چاہیے۔‘

ژاک کیلس نے سنہ 1995 میں انگلینڈ کے خلاف اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز کیا تھا اور 18 برس پر محیط کیریر میں انھوں نے 165 ٹیسٹ میچ کھیلے جب کہ یہ ان کا 166 واں ٹیسٹ ہے۔

اس عرصے میں کیلس نے 44 سنچریوں اور 58 نصف سنچریوں اور 55 رنز کی اوسط سے 13,174 رنز بنائے اور 224 رنز ان کا بہترین ٹیسٹ سکور رہا۔

کیلس کا شمار دنیائے کرکٹ کے بہترین آل راؤنڈر کھلاڑیوں میں کیا جاتا ہے اور ٹیسٹ میچوں میں ان کی 292 وکٹیں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

اسی بارے میں