’کوری اینڈرسن کا نام اس سے پہلے کبھی نہیں سنا‘

Image caption شاہد آفریدی نے اکتوبر سنہ 1996 میں 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی

ایک روزہ کرکٹ میں تیز ترین سنچری کا اپنا 17 برس پرانا ریکارڈ ٹوٹنے پر پاکستانی آل راؤنڈر شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ انہیں کرس گیل یا ڈیوڈ وارنر سے یہ ریکارڈ توڑنے کی توقع تھی اور کوری اینڈرسن کا تو انھوں نے نام بھی نہیں سنا تھا۔

نیوزی لینڈ کے بلے باز کوری اینڈرسن نے بدھ کو 36 گیندوں پر سنچری بنا کر ایک روزہ کرکٹ کی تیز ترین سنچری کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔

انھوں نے یہ کارنامہ بدھ کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گئے میچ میں سرانجام دیا۔

شاہد آفریدی نے اکتوبر سنہ 1996 میں سری لنکا کے خلاف نیروبی کے میدان میں صرف 16 برس کی عمر میں اپنے کریئر کے دوسرے ایک روزہ میچ میں 37 گیندوں پر ایک روزہ کرکٹ کی تیز ترین سنچری بنائی تھی۔

شاہد آفریدی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بدھ کو بات چیت کرتے ہوئے جہاں کوری اینڈرسن کی کارکردگی کی تعریف کی وہیں یہ بھی تسلیم کیا کہ انھوں نے اس سے پہلے کبھی ان کا نام تک نہیں سنا تھا۔

شاہد نے کہا کہ انھیں ان کے بھتیجے نے اس بارے میں بتایا: ’تاہم میں یہ ضرور کہوں کا کہ یہ بہت بڑا کارنامہ ہے اور اینڈرسن اس تعریف کا مستحق ہے۔‘

پاکستانی آل راؤنڈر کا کہنا تھا کہ 36 گیندوں پر 100 رنز بنانے کے لیے بڑی محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔

شاہد آفریدی کے بقول ریکارڈز ٹوٹنے کے لیے ہی بنتے ہیں اور میں جانتا تھا کہ میرا یہ ریکارڈ کسی نہ کسی دن ٹوٹ جائے گا۔

انھوں نے کہا: ’یہ میری خواہش تھی کہ میری ریٹائرمنٹ تک یہ ریکارڈ برقرار رہتا کیونکہ یہ میرے لیے اور خاص طور پر پاکستان کے لیے فخر کی بات تھی اور جب بھی میرا نام لیا جاتا اس ریکارڈ کا ذکر آتا۔‘

شاہد آفریدی نے کہا: ’انھیں ویسٹ انڈیز کے کرس گیل یا آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر سے یہ ریکارڈ توڑنے کی توقع تھی تاہم میں نے کسی نو آموز کھلاڑی کی جانب سے اس ریکارڈ کو توڑنے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’میری خواہش ہے کہ کوئی دوسرا پاکستانی کھلاڑی اینڈرسن کے اس ریکارڈ کو جلد از جلد توڑ دے، تاہم موجودہ صورتِ حال میں ہر ایک کو کوری اینڈرسن کے اس کارنامے کی تعریف کرنی چاہیے۔‘

اسی بارے میں