’شوماکر کی حالت نازک مگر مستحکم ہے‘

Image caption مائیکل شوماکر سات بار فارمولا ون کار ریسنگ چیمپیئن رہ چکے ہیں

رانس میں سکیئنگ کے دوران شدید زخمی ہونے والے فارمولا ون کار ریسنگ کی تاریخ کے کامیاب ترین ڈرائیور مائیکل شوماکر کی مینیجر کا کہنا ہے کہ اب ان کی حالت نازک مگر مستحکم ہے۔

سبین کیم نے بدھ کو بتایا ہے کہ ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور وہ ان کی صحت کے بارے میں افواہوں پر تبصرہ نہیں کریں گی۔

45 سالہ مائیکل شوماکر کو اتوار کو فرنچ الپس کے پہاڑی سلسلے میں واقع میربل کے الپائن ریزارٹ میں سکیئنگ کے دوران سر پر چوٹ آئی تھی اور انھیں گرینوبل ہسپتال میں ڈاکٹروں نے کومے کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔

منگل کو ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ شوماکر کی حالت میں بہتری کے اشارے ملے ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب بھی ان کی حالت خطرے سے باہر نہیں ہے۔

شوماکر کی مینیجر نے بتایا ہے کہ جب تک صورتحال میں قابلِ ذکر تبدیلی نہیں ہوتی معالجین بدھ کو ان کی صحت کے بارے میں اس وقت تک مزید کوئی اطلاع نہیں دیں گے ۔

انھوں نے ہسپتال کے باہر جمع صحافیوں اور مداحوں کو بتایا کہ ’آج کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ صورتحال میں کوئی قابلِ ذکر تبدیلی نہیں ہوئی۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صورتحال اب بھی نازک ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ آنے والے دنوں اور مہینوں میں مائیکل شوماکر کی حالت کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے۔ تاہم یہ طبی طور پر ممکن ہے کہ کوئی مریض کئی ہفتے کومے میں گزارے اور پھر مکمل صحت یاب ہو جائے۔

سکیئنگ کے دوران پھسلنے کی وجہ سے شوماکر کا سر چٹان سے ٹکرایا تھا اور ان کا ہیلمٹ ٹکراؤ کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا۔ سبین کیم نے کہا کہ ’اس کا یہ مطلب نہیں کہ شوماکر کی رفتار بہت تیز تھی۔ وہ زیادہ تیز رفتار سے سکیئنگ نہیں کر رہے تھے۔‘

انھوں نے منگل کو یہ بھی بتایا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے برعکس شوماکر اپنے بیٹے کے ہمراہ نہیں بلکہ دوستوں کے ہمراہ تھے۔

خیال رہے کہ مائیکل شوماکر سات بار فارمولا ون کار ریسنگ چیمپیئن رہ چکے ہیں اور ان کے مداح دنیا بھر میں موجود ہیں۔

شوماکر نے 1991 میں فارمولا ون ریسنگ کی دنیا میں قدم رکھا اور تین برس بعد اپنا پہلی گراں پری ریس جیتی تھی۔

ریسنگ ٹریک پر شوماکر کو جارحانہ ڈرائیور کے طور پر جانا جاتا ہے اور وہ سنہ 2000 سے 2004 تک پانچ سال لگاتار فارمولا ون ریسنگ میں سال کے بہترین ڈرائیور ثابت ہوئے۔

شوماکر نے سنہ 2006 میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا لیکن 2010 میں وہ دوبارہ دنیا کے تیز ترین کھیل میں واپس آئے لیکن جیت ان کے مقدر میں نہیں تھی۔

وہ 2012 میں ایک بار پھر لیکن حتمی طور پر ریسنگ سے ریٹائر ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں