ابوظہبی میں کیے کرائے پر پانی پھرگیا

Image caption میتھیوز کی سنچری شراکتوں نے سری لنکا کو شکست کے خطرے سے آزاد کر دیا

پانچ دن کا ٹیسٹ میچ ہر دن ہر سیشن میں رنگ بدلتا ہے۔

ابوظہبی ٹیسٹ کے تیسرے دن کے اختتام پر پاکستانی ٹیم کی ممکنہ جیت کی باتیں ہونے لگی تھیں کیونکہ سری لنکن ٹیم پاکستانی برتری کا خاتمہ کرنے کے بعد صرف چار رنز کی سبقت حاصل کرتے ہوئے چار قیمتی وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی لیکن اگلے دو دن پاکستانی بولنگ پر بہت بھاری گزرے۔

کپتان اینجلو میتھیوز ناقابل شکست سنچری بنا کر میچ کو اس مقام پر لے آئے جہاں پاکستانی بیٹسمینوں کی فاش غلطی انہیں شکست سے دوچار تو کرسکتی تھی لیکن وہ جیت کے لیے خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں تھے ۔

سری لنکن بیٹسمین پہلی اننگز میں آسانی سے پاکستانی بولنگ کے قابو میں آئے تھے۔

جنید خان نے چوتھی مرتبہ سری لنکا کے خلاف اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں ۔ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے بلاول بھٹی کا وار بھی کم مہلک نہ تھا۔ اگر میتھیوز 91 رنز کی عمدہ اننگز نہ کھیلتے تو بساط جلد لپیٹ دی جاتی۔

پاکستان کی پہلی اننگز میں سے یونس خان اور مصباح الحق کی سنچریاں نکال دی جائیں تو کچھ بھی نہیں بچتا۔

Image caption سعید اجمل کا غیر موثر ثابت ہونا پاکستان کے نقطہ نظر سے مایوس کن بات تھی

دونوں کی ڈبل سنچری شراکت سے پہلے پاکستانی ٹیم نے 83 رنز پر تین وکٹیں گنوائی تھیں اور شراکت کے بعد سات وکٹیں صرف 82 پر لُٹا دیں۔

یونس خان کے بعد مصباح الحق کا ساتھ دینے والا کوئی بھی نہ تھا۔ اسد شفیق کی غیرمستقل مزاجی ان کے ٹیلنٹ کے لیے دیمک بن چکی ہے۔ ان کی طرف سے ان دنوں اگر کوئی بڑی اننگز دیکھنے میں بھی آتی ہے تو وہ اپنا کریئر بچانے کے لیے ہوتی ہے۔

میچ کا یہی ٹرننگ پوائنٹ تھا کہ پاکستانی ٹیم نے ایک بڑی برتری حاصل کرنے کا سنہری موقع ضائع کر دیا۔

سری لنکن بیٹنگ دوسری اننگز میں قدرے بہتر رہی۔ کوشل سلوا اور سنگاکارا کی نصف سنچریوں نے خسارہ کم کیا لیکن درحقیقت میتھیوز کی چندی مل اور وکٹ کیپر پرسنا جے وردھنے کے ساتھ سنچری شراکتوں نے سری لنکا کو شکست کے خطرے سے آزاد کردیا۔

سعید اجمل کا غیر موثر ثابت ہونا پاکستان کے نقطہ نظر سے مایوس کن بات تھی۔ راحت علی پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی کوئی آؤٹ نہ کرسکے۔ بلاول بھٹی کو دو وکٹوں کا سودا خاصا مہنگا پڑا، انہیں رنز کی رفتار پر بہت زیادہ قابوکی ضرورت ہے۔

Image caption پاکستان کی پہلی اننگز میں سے یونس خان اور مصباح الحق کی سنچریاں نکال دی جائیں تو کچھ بھی نہیں بچتا

پاکستان کی دوسری اننگز میں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے احمد شہزاد اور ٹیسٹ ٹیم میں واپس آنے والے محمد حفیظ نے نصف سنچریاں سکور کیں۔

بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹ اور اوسط درجے کے سری لنکن بولنگ اٹیک کا سب سے زیادہ فائدہ حفیظ نے ہی اٹھایا کہ صرف ایک ون ڈے سیریز کی کارکردگی پر وہ ٹیسٹ ٹیم میں واپس آگئے اور دوسری اننگز میں ناقابل شکست 80 رنز نے ان کی پورے سال کی ٹیسٹ میچوں میں انتہائی مایوس کن کارکردگی پر پردہ ڈال دیا۔

دوسرے ٹیسٹ میچ راحت علی کا ڈراپ کیا جانا یقینی ہے۔ دبئی کی وکٹ دیکھتے ہوئے محمد طلحہ یا عبدالرحمن میں سے کوئی ایک ٹیم میں شامل ہوگا جبکہ انگلی میں فریکچر کے سبب باہر ہونے والے عدنان اکمل کی جگہ سرفراز احمد لیں گے۔

خرم منظور کی جگہ شان مسعود کی واپسی ہوسکتی ہے لیکن ٹیم منیجمنٹ اس سوال کا کیا جواب دے گی کہ صرف دو ون ڈے میچوں کی کارکردگی پر عمرگل کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرنے کے لیے اتنی تیزی کیوں دکھائی گئی کہ بعد میں انہیں مکمل فٹ نہ ہونے کے سبب وطن واپس روانہ کرنا پڑا ۔یہی کچھ شعیب ملک کے معاملے میں بھی کیا گیا تھا۔

یاری دوستی نبھانے کے یہ کھیل کب تک چلیں گے؟

اسی بارے میں